’تارکین وطن کے خلاف نفرت انگیز بیانات کی فیس بک پر جگہ نہیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
فیس بک کے بانی مارک زکر برگ کا کہنا ہے کہ فیس بک کو تارکین وطن کے بارے میں نفرت انگیز بیانات کو روکنے کے لیے مزید بہتر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
مارک زکر برگ نے برلن میں عوامی ’ٹاؤن ہال‘ میں بات کرتے ہوئے تارکین وطن کو ایک ایسے گروہ سے تعبیر کیا جسے تحفظ کی ضرورت ہے۔
اس تقریب میں تقریباً ایک ہزار کے قریب افراد کو مدعو کیا گیا تھا جن میں زیادہ تعداد طلبا کی تھی۔
جرمنی میں فیس بک کو تارکین وطن مخالف پوسٹس کو روکنے میں ناکام ہونے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
جرمنی کی وزارت قانون کا کہنا ہے کہ فیس بک نسلی پیغامات ہٹانے کی بجائے نامناسب تصاویر کو جلد ہٹاتا ہے۔
جنوری میں اطلاعات کے مطابق جرمن حکام فیس بک، گوگل اور ٹوئٹر کے ساتھ ایک معاہدہ کرنا چاہتے تھے جس کا مقصد کمپنی کی پالیسی پر ان قوانین کو ترجیح دینے کو یقینی بنانا تھا۔
جب مارک زکربرگ سے فیس بک کا واضح موقف جاننے کی کوشش کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ’فیس بک پر اس قسم کے مواد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ جرمنی کے قوانین اور ثقافت کے بارے میں مزید جاننے سے ہمیں اپنی سوچ تبدیل کرنے میں رہنمائی ملی ہے۔‘
مارک زکر برگ نے یہ تو نہیں بتایا کہ اس قسم کے مواد کو کیسے روکیں گے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’تارکین وطن کے خلاف نفرت انگیز بیانات ان تمام چیزوں کا اہم حصہ ہے جنھیں ہم اب فیس بک پر برداشت نہیں کریں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جرمنی میں کسی بھی دوسرے یورپی ملک کے مقابلے میں پناہ کے متلاشی افراد اور محاجرین بڑی تعداد میں آئے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر افراد جنگ زدہ ملک شام سے آئے ہیں۔







