خون کےٹیسٹ سے دل کےمرض کی تشخیص

،تصویر کا ذریعہSPL
برطانیہ میں دل کے امراض کی طبی تنظیم برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن نے کہا ہے کہ خون کے نئے ٹیسٹ سے دل کی موروثی بیماریوں کی تشخیص ممکن ہو گئی ہے۔
برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی مالی معاونت سے تحقیق کرنے والے طبی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ انسانی جنیات کے مخصوص گروپوں کا تجزیہ کر کے دل کے مورثی امراض یا نقائص کے بارے میں معلوم کیا جا سکتا ہے۔
یہ تحقیق سر ڈیوڈ فراسٹ کے صاحبزادے مائلز فراسٹ کی اپنے باپ سے ورثے میں ملنے والے عارضۂ قلب میں مبتلا ہونے سے اچانک موت کے بعد سامنے آئی ہے۔
ان کے خاندان نے خون کے نئے ٹیسٹ کو عام آدمی تک پہنچانے کے لیے 15 لاکھ پاؤنڈ جمع کرنے کا عزم کیا ہے۔
برطانیہ کے عالمی شہرت یافتہ پیش کار اور براڈکاسٹر آنجہانی ڈیوڈ فراسٹ کے بڑے صاحبزادے کا گذشتہ سال 31 برس کی عمر میں اوکسفورڈ شائر میں اپنے گھر کے قریب جاگنگ کرتے ہوئے اچانک انتقال ہو گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہPA
مائلز دل کے ایک ایسے مرض میں مبتلا تھے جس کی تشخیص نہیں کی جا سکی تھی۔
دل کی مورثی بیماریوں کا علاج
- صرف برطانیہ میں پانچ لاکھ افراد ورثے میں ملنے والی دل کی بیماریوں کا شکار ہیں۔
- دل کے بہت سے مختلف امراض ہیں بشمول گردش خون کے امراض، جو ماں باپ سے بچوں میں منتقل ہوتے ہیں۔
- وہ کسی بھی عمر کے انسان کو متاثر کر سکتے ہیں اور جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔
- ایسے مرض کی پہلی علامات اس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب کسی خاندان میں بظاہر کسی وجہ کے بغیر کسی فرد کی اچانک موت واقع ہو جاتی ہے۔
- جینیاتی ٹیسٹوں سے جین میں نقص کی تشخیص ممکن ہے اور ادویات، سرجری یا طرز زندگی میں تبدیلی سے اچانک موت واقع ہونے کے خطرے کو کم یا ختم کیا جا سکتا ہے۔
خون کے روایتی ٹیسٹ کے ذریعے محدود جین کے بارے میں معلوم کیا جا سکتا ہے اور یہ طریقہ کار کافی مہنگا اور وقت طلب ہے۔
لندن کے امپیریل کالج اور ایم آر سی کلینکل سائنسز کے مرکز کے ماہرین کے مطابق نیا ٹیسٹ 174 مختلف جین کا جائزہ لیتا ہے، اور یہ زیادہ قابل اعتبار اور کم وقت میں کیا جا سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لندن میں رائل برمٹن ہسپتال میں دل کے امراض کے مرکز میں اس کا استعمال شروع ہو گیا ہے اور ہر ماہ 40 مریضوں کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔
دل کے امراض کے ماہر ڈاکٹر جیمز وائر دل کی مورثی بیماریوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جین کے ٹیسٹ کے بغیر ہمیں خاندان کے سارے افراد کو کئی برس تک زیر نگرانی رکھنا پڑتا ہے اور یہ بہت مہنگا اور ڈاکٹر اور مریضوں کے لیے بہت دقت طلب عمل ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جین کے ٹیسٹ میں جب کسی خاندان کے ایک فرد میں ناقص جین پایا جاتا ہے تو اس خاندان کے دوسرے افراد کا بھی یہ ٹیسٹ کیا جاتا ہے اور اگر کسی کی جین میں نقص نہیں ہوتا تو وہ ہسپتال کے بےشمار چکر لگانے سے بچ جاتا ہے۔‘







