بے ترتیب دھڑکن خواتین کے لیے زیادہ خطرناک
ایک تجزیے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دل کی غیر مستقل دھڑکن مردوں کے مقابلے عورتوں کی صحت کے لیے زیادہ خطرناک ہے۔
اس تجزیے میں 30 مطالعے شامل ہیں اور ان مطالعوں میں 40 لاکھ سے زیادہ مریضوں کے کوائف کو سامنے رکھا گیا ہے۔
تجزیے کے مطابق جن خواتین کو ایٹریئل فائبرلیشن (اے ایف) یعنی بغیر ظاہری علامت کے دل کے عضلوں یا پٹھوں میں غیر ہم آہنگی کی بیماری ہو انھیں دل کی مہلک بیماری یا دل کا دورہ پڑنے کا دگنا خطرہ ہے۔
<link type="page"><caption> مطلقہ افراد کو ہارٹ اٹیک کا زیادہ امکان</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/science/2015/04/150415_divorce_heart_attack_atk.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> دل کی بیماری: جتنے پست قد، اتنا خطرہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/science/2015/04/150409_short_heart_risk_as.shtml" platform="highweb"/></link>

،تصویر کا ذریعہSPL
ایسی خواتین پر اے ایف دوائیں کم اثر کرتی ہیں یا پھر ان کی تشخیض مردوں کے مقابلے دیر سے ہوتی ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے کونر ایمڈن اور ان کے ساتھیوں نے طبی جریدے بی ایم جے کو بتایا: ’اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ بےترتیب دھڑکن والی خواتین کا مردوں کے مقابلے کم علاج ہوتا ہے۔
دریں اثنا ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کو ان تشخیص سے باخبر ہونا چاہیے تاکہ جن اموات کو بچایا سکتا ہے ان کے لیے زیادہ کیا جا سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانیہ میں تقریبا دس لاکھ افراد کو اے ایف ہے اور آپ اسے خود سے اپنی نبض پر 30 سیکنڈ تک انگلی رکھ کر جانچ سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہbbc
دھڑکن کے تسلسل میں کبھی کبھی تسلسل کا نہ ہونا جیسے کئی بار دھڑکن کا نہ آنا یا پھر ایک ساتھ دو دھڑکن کا آجانا عام ہے اور پریشانی کی کوئی بات نہیں۔
لیکن اگر آپ کی دھڑکن میں یہ بات متواتر طور پر غیر مسلسل ہے تو پھر آپ ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ دھڑکن بہت تیز بھی ہو سکتی ہے۔ آرام کی حالت میں بھی ایک منٹ میں 100 سے زیادہ ہو سکتی ہے جس سے سرچکرانا یا پھر سانس کا مختصر ہونا ہو سکتا ہے۔
دواؤں سے اے ایف کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے اور دل کا دورہ پڑنے کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSPL
جو اے ایف کے مرض سے دو چار ہیں ان کے دل کے بالائی چیمبر جنھیں ایٹریا کہا جاتا ہے وہ اچانک سکڑجاتے ہیں، بعض اوقات اتنا جلدی کہ دل کے عضلوں کو دو بار سکڑنے کے درمیان ٹھیک سے پرسکون ہونے کا موقع نہیں ملتا۔
برطانوی ہارٹ فاؤنڈیشن کی جون ڈیویسن کا کہنا ہے کہ خواتین اور مرد دنوں میں اے ایف کی جانچ جتنی ہونی چاہیے نہیں ہوپاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس بارے میں مزید مطالعوں کی ضرورت ہے۔







