ٹِم پیک بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر پہنچ گئے

تینوں خلابازوں کا استقبال خلائی سٹیشن کے موجودہ عملے نے کیا

،تصویر کا ذریعہesa

،تصویر کا کیپشنتینوں خلابازوں کا استقبال خلائی سٹیشن کے موجودہ عملے نے کیا

برطانوی خلا باز ٹِم پیک روس اور امریکہ کے ایک ایک خلاباز کے ہمراہ بین اقوامی خلائی سٹیشن پر پہنچ گئے ہیں جہاں وہ چھ ماہ تک قیام کریں گے۔

برطانیہ کے سابق آرمی پائلٹ ٹِم پیک سویوز نامی خلائی راکٹ پر قزاقستان کے خلائی سٹیشن سے روس کے یوری مالینچینکو اور امریکہ کے ٹِم کوپرا کے ہمراہ خلائی سفر پر روانہ ہوئے تھے۔

وہ خلا کا سرکاری طور پر سفر کرنے والے پہلے برطانوی خلا باز ہیں۔

ٹم پیک بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر چھ ماہ قیام کے دوران سائنسی تجربات کریں گے اور تعلیمی نوعیت کی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے۔ ان کا مقصد نوجوانوں میں سائنسی شوق پیدا کرنا ہے۔

خلائی راکٹ کو برطانیہ کے معیاری وقت کے مطابق صبح 11:03 پر بیکانور کی سائٹ نمبر ایک سے لانچ کیا گیا۔ یہ وہ لانچنگ پیڈ ہے کہ جہاں سے یوری گیگارین نے سنہ 1961 میں پہلی خلائی پرواز کی تھی۔

ٹِم پیک روس اور امریکہ کے ایک ایک خلاباز کے ہمراہ بین اقوامی خلائی سٹیشن پر پہنچے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنٹِم پیک روس اور امریکہ کے ایک ایک خلاباز کے ہمراہ بین اقوامی خلائی سٹیشن پر پہنچے

یہ راکٹ چھ گھنٹے کے سفر کے بعد بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر پہنچا جہاں ان تینوں خلابازوں کا استقبال خلائی سٹیشن کے موجودہ عملے نے کیا۔

خلائی سٹیشن پر پہنچنے کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ٹم کا کہنا تھا کہ ’یہ شاندار سفر تھا۔ طلوعِ آفتاب کا منظر واقعی مسحور کن تھا۔‘

ٹم کو خلائی سٹیشن تک پہنچانے والا روسی راکٹ سٹیشن سے خودکار طریقے سے متصل ہونے میں ناکام رہا۔

اتصال کے خودکار نظام میں خرابی کے بعد راکٹ کے روسی کمانڈر نے اسے خلائی سٹیشن کی جانب لے جا کر راکٹ کو سٹیشن سے جوڑا۔