ڈینگی بخار سے بچاؤ کی دنیا کی پہلی ویکسین کا استعمال

فرانسیسی فارموسیوٹیکل کمپنی سنوفی کا کہنا ہے کہ انھوں نے ڈینگوژیا نامی ویکسین 20 برسوں میں تیار کی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفرانسیسی فارموسیوٹیکل کمپنی سنوفی کا کہنا ہے کہ انھوں نے ڈینگوژیا نامی ویکسین 20 برسوں میں تیار کی ہے

میکسیکو کی وزارت صحت نے ڈینگی بخار سے بچاؤ کی دنیا کی پہلی ویکسین کے استعمال کی منظوری دے دی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق مچھر سے پھیلنے والی اس بیماری سے ہر سال 22 ہزار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

فرانسیسی فارموسیوٹیکل کمپنی سنوفی کا کہنا ہے کہ انھوں نے ڈینگوژیا نامی ویکسین 20 برسوں میں تیار کی ہے۔

ابتدائی مرحلے میں میکسیکو میں تقریباً 40 ہزار افراد اس سے مستفید ہوں گے۔

وزارت صحت کی جانب سے جاری کیے گیے بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’اس فیصلے کے ساتھ میکسیکو کو فرانس سمیت دوسرے ممالک پر اس وائرس کے پھیلاؤ سے بچاؤ کے حوالے سے سبقت حاصل ہوگئی ہے۔‘

ڈینگی بخار ہر سال دنیا بھر میں 40 کروڑ افراد کو متاثر کرتا ہے، جن میں زیادہ تر خط استوا اور نیم خط استوا پر موجود شہری علاقوں کے باشندے شامل ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق لاطینی امریکہ اور ایشیا ممالک میں ہسپتالوں میں سب سے زیادہ اسی مرض سے متاثرہ مریضوں کو لایا جاتا ہے۔

ڈینگی بخار کا شکار ہونے والوں میں ایک بڑی تعداد بچوں کی ہوتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق مچھر سے پھیلنے والی اس بیماری سے ہر سال 22 ہزار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنعالمی ادارہ صحت کے مطابق مچھر سے پھیلنے والی اس بیماری سے ہر سال 22 ہزار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں

یہ ویکسین نو سال سے زیادہ عمر کے بچوں اور 49 سال سے کم عمر افراد کو ان علاقوں میں دستیاب ہوگی جہاں یہ مرض وبائی صورت میں موجود ہوگا۔

ویکسین تیار کرنے والی کمپنی سنوفی کا کہنا ہے کہ یہ چار قسم کے ڈینگی وائرس سے بچاؤ کے لیے تیار کی گئی ہے۔

سنوفی ویکسین ڈویژن کے سربراہ اولیور چارمیل نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’یہ عوامی صحت کی تاریخ میں بہت اہم لمحہ ہے۔‘

اس کمپنی کا کہنا ہے کہ انھوں نے ڈینگی بخار کے علاج کی تیاری پر 16 ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ کی ہے۔

یہ ایک انسان سے دوسرے انسان میں ایک خاص قسم کے مچھر ’ایڈیس ایجپٹی‘ کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، جو شدید بخار اور دیگر قسم کی بیماریاں پھیلانے کا سبب بھی ہے۔

ڈینگی بخار پہلی بار 1950 کی دہائی میں تھائی لینڈ اور فلپائن میں منظر عام پر آیا تھا۔