آپ سوتے ہوئے بھی کینسر کے علاج میں مدد دے سکتے ہیں

’ڈریم لیب‘ ایپ آپ کے سمارٹ فون کی کمپیوٹنگ پاور استعمال کر کے کینسر کی تحقیق میں مدد لیتی ہے

،تصویر کا ذریعہThink Stock

،تصویر کا کیپشن’ڈریم لیب‘ ایپ آپ کے سمارٹ فون کی کمپیوٹنگ پاور استعمال کر کے کینسر کی تحقیق میں مدد لیتی ہے

اگر آپ اپنے سمارٹ فون پر ایک ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور اپنے گھر یا فون کی انٹرنیٹ سروس عطیے میں دیں تو آپ کا فون کینسر کا علاج ڈھونڈنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔

’ڈریم لیب‘ ایپ آپ کے سمارٹ فون کی کمپیوٹنگ پاور استعمال کرتی ہے جو سائنس دانوں کو چھاتی، بیضہ دانی، پروسٹیٹ غدود، یا لبلبے کے کینسر کی تحقیق میں کام آتے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر ایک ہزار لوگ اس ایپ کا استعمال کریں تو وہ سرطان کی تحقیق میں استعمال ہونے والے شماریاتی عمل کو اِس کی موجودہ رفتار سے 30 گنا زیادہ تیز کر سکتے ہیں۔

اس وقت یہ ایپ صرف اینڈروئڈ فونز میں دستیاب ہے لیکن اسے آئی فون کے لیے بھی تیار کیا جا رہا ہے۔

اس وقت یہ ایپ صرف اینڈروئڈ فونز میں دستیاب ہے لیکن اسے آئی فون کے لیے بھی تیار کیا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہThink Stock

،تصویر کا کیپشناس وقت یہ ایپ صرف اینڈروئڈ فونز میں دستیاب ہے لیکن اسے آئی فون کے لیے بھی تیار کیا جا رہا ہے

اس منصوبے کے خالقوں کا کہنا ہے کہ رات کے وقت جب لوگ سوتے ہیں تو لاکھوں سمارٹ فونز ’بےکار‘ ہو جاتے ہیں۔ ان فونز کی پراسیسنگ کی صلاحیت کو استعمال کرنے کا یہ بہترین وقت ہوتا ہے۔

یہ منصوبہ آسٹریلیا میں مقیم ’گاروان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ریسرچ‘ نے شروع کیا ہے لیکن دنیا میں کوئی بھی شخص اس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کر سکتا ہے۔

صارفین اس تحقیق کو یا تو اپنے موبائل نیٹ ورک کی سروس کے ذریعے توانائی دے سکتے ہیں یا پھر گھر میں دستیاب اپنی وائی فائی سروس سے۔

اس ایپ میں یہ بھی صلاحیت ہے کہ اگر کسی صارف کے فون پر انٹرنیٹ ختم ہو جاتا ہے تو یہ خود بہ خود رک جاتی ہے تاکہ ان کے انٹرنیٹ کا بل زیادہ نہ آئے۔

گاروان انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر وارن کیپلان نے کہا کہ کہ ان کی تحقیقات کے لیے ’اتنی زیادہ کمپیوٹنگ کی توانائی کی ضرورت ہو گی کہ اس پر یا تو بہت پیسے لگیں گے یا پھر بہت زیادہ سال صرف ہو سکتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’ڈریم لیب ایپ کے ذریعے ہمیں مسلسل چلتے ہوئے سپر کمپیوٹر تک مفت رسائی فراہم ہو جاتی ہے جس سے ہماری کینسر کی تحقیق مزید تیز ہو سکتی ہے۔‘

سائنس کی تحقیق میں شہریوں کی مدد پہلی دفعہ نہیں دیکھی گئی، بلکہ مالی امداد کے لیے کئی ضرورت مند تحقیقی ادارے اکثر رضاکاروں سے مدد لیتے ہیں۔