سائبر جرائم کے خلاف ’فوری عمل کی ضرورت‘

ہیکروں نے ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کمپنی ٹاک ٹاک کے 40 لاکھ تک صارفین کی تفصیلات کی ممکنہ طور پر رسائی حاصل کر لی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنہیکروں نے ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کمپنی ٹاک ٹاک کے 40 لاکھ تک صارفین کی تفصیلات کی ممکنہ طور پر رسائی حاصل کر لی ہے

برطانیہ میں متعدد اہم شخصیات نے انٹرنیٹ پر ہونے والے جرائم (سائبر جرائم) سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ مطالبہ برطانیہ کی ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کمپنی ٹاک ٹاک پر ہیکروں کے حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ’سائبر کرائم پر قابو پانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔‘

ٹاک ٹاک کے بہت سے صارفین نے شکایت کی تھی کہ ہیکروں نے ان کے بینک اکاؤنٹوں اور کریڈٹ کارڈوں کی رسائی حاصل کر لی ہے۔

تاہم اب تک اس حملے کے باعث کسی براہِ راست نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ہلیری فوسٹر نامی ایک صارف نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے اکاؤنٹ سے 600 پاؤنڈ نکالے گئے ہیں۔ بینک کا کہنا ہے کہ یہ رقم انھیں واپس مل جائے گی۔

ایک اور صارف باربرا مینلی نے کہا کہ ایک شخص نے انھیں فون کر کے کہا کہ وہ ٹاک ٹاک سے بول رہا ہے۔ اس کے بعد بدھ کے روز ان کے خاوند کے اکاؤنٹ سے نو ہزار پاؤنڈ نکال لیے گئے۔

مینلی کی صاحبزادی سارا نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ٹاک ٹاک کو ’اس بارے میں خاصے عرصے سے معلومات تھیں لیکن انھوں نے اپنے صارفین کو خبردار نہیں کیا۔‘

ٹاک ٹاک نے کہا ہے کہ وہ ان شکایات کی تحقیقات کروا رہی ہے۔

صارفین کا خیال ہے کہ ٹاک ٹاک نے اپنے صارفین کو خبردار کرنے میں بہت دیر کر دی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنصارفین کا خیال ہے کہ ٹاک ٹاک نے اپنے صارفین کو خبردار کرنے میں بہت دیر کر دی

میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہیکنگ کے اس واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

’حیرت انگیز خاموشی‘

صارفین کو پہنچنے والے نقصانات کی خبریں ٹاک ٹاک کے اس اعلان کے دو روز بعد آئیں کہ اس پر سائبر حملہ ہوا ہے اور ہیکروں نے اس کے 40 لاکھ تک صارفین کی تفصیلات کی ممکنہ طور پر رسائی حاصل کر لی ہے۔

ٹاک ٹاک کے کئی صارفین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ اس حملے کے بعد کمپنی کے ردِ عمل سے ناخوش ہیں۔

سابق وزیر ہیزل بلیرز نے کہا کہ ٹاک ٹاک کے ڈیٹا کی چوری تشویش ناک ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس بارے میں مزید قانون سازی کرنے پر بات ہونی چاہیے ’کیوں کہ یہ ہماری معیشت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔‘

کارپوریٹ مشیر اولیور پیری نے پولیس پر زور دیا کہ وہ سائبر کرائم کو فوری ترجیح بنائیں اور ’ڈیٹا کی چوری کی تفتیش اسی طرح کریں جیسے وہ سامان کی چوری کی تفتیش کرتے ہیں۔‘

لیبر کے رکنِ پارلیمان اور ہوم افیئرز کی سیلیکٹ کمیٹی کے چیئرمین کیتھ واز نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ٹاک ٹاک کے چیئرمین سر چارلز ڈن سٹون کو خط لکھ کر پوچھیں گے کہ انھوں نے حملے کا پتہ چلنے کے بعد کیا اقدامات کیے۔

انھوں نے کہا کہ کمپنی کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے صارفین کو ’فوری طور پر‘ آگاہ کر دیتی، اور یہ توجیہ کہ اس نے 36 گھنٹوں بعد ایسا کیا تھا ’لوگوں کی نظر میں قابلِ قبول نہیں ہو گی۔‘