ہیکروں کے لیے دس لاکھ فضائی میل کا انعام

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکی فضائی کمپنی یونائیٹڈ نے ان دو ہیکروں کو انعام کے طور پر دس لاکھ فضائی میل دینے کا اعلان کیا ہے جنھوں نے اس کی ویب سائٹ کی سکیورٹی کی کمزوریوں کو پکڑا تھا۔
یونائیٹڈ ایئر ’بگ باؤنٹی‘ سکیم چلاتی ہے جس کے تحت ان ہیکروں کو انعام دیا جاتا ہے جو کمپنی کے نظام میں سکیورٹی کی خرابیاں آن لائن پر شیئر کرنے کے بجائے خود کمپنی کو اس سے آگاہ کرتے ہیں۔
اس کمپنی نے اب ان دو ہیکروں کو دس لاکھ فضائی میل کا انعام دیا ہے جس کا مطلب ہے درجنوں فضائی سفر۔
سکیورٹی سے متعلق ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ آن لائن سکیورٹی کی جانب یہ ایک بڑا قدم ہے۔
سکیورٹی کنسلٹنٹ ڈاکٹر جیسکا کے مطابق ’اس طرح کی سکیمیں ہیکروں کو مسائل کی درست انداز میں نشاندہی کرنے پر نوازتی ہیں اور یہ عمل انٹر نیٹ کو ہم سب کے لیے محفوظ کر دیتا ہے۔‘
ڈاکٹر بیکر کے مطابق ’تکنیکی خرابیوں کی نشاندہی پر انعام ٹیکنالوجی کی کمپنیوں میں عام بات ہے کیونکہ وہ آن لائن سکیورٹی کو قدرے زیادہ سمجھتی ہیں۔ لیکن اب دوسری صنعتیں بھی ایسا ہی کر رہی ہیں۔‘
ذمہ دارانہ طریقے سے سکیورٹی کے عیبوں کی نشاندہی کرنا، مسائل کی اطلاع دینا اور کمپنیوں کو انھیں درست کرنے کا وقت دینا نئی بات نہیں ہے۔
ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں جیسے یاہو، گوگل اور فیس بک تکنیکی یا سافٹ ویر کی خرابیوں کے بارے میں نجی طور پر آگاہ کیے جانے پر ہیکروں کو کیش انعام دیتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہReuters
جن ہیکروں کو فضائی میل انعام میں دیے گئے ہیں انھیں پابند کیا گیا ہے کہ وہ کسی کو یہ نہیں بتائیں گے کہ سکیورٹی کی خرابیاں کس طرح کی تھیں۔
یونائیٹڈ نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے ’ہمیں یقین ہے کہ یہ پروگرام ہماری سکیورٹی کے نظام کو مزید بہتر بنائے گا اور شاندار خدمات فراہم کرتے رہنے میں ہماری مدد کرے گا۔‘
’بگ باؤنٹیز‘ کے کچھ ناقد کہتے ہیں کہ اس سے پیشہ ور سکیورٹی سٹاف بھرتی کرنے میں کمپنیوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے کیونکہ خرابیاں جاننے کے لیے ہیکروں کو پیشکش کرنا سستا پڑتا ہے۔
تاہم سکیورٹی ماہر ڈاکٹر بیکر اس سے متفق نہیں۔ وہ کہتی ہیں ’ایسی سکیموں کو سکیورٹی کی مجموعی پالیسی کا ایک حصہ ہونا چاہیے لیکن یہ بحرحال ایک اچھا طریقہ ہے۔ اس سے مثبت رویوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور نوجوان ہیکروں کو سمجھ آ جاتی ہے کہ اگر وہ صحیح کام کریں گے تو انھیں فائدہ ہوگا۔
’انعام کی سکیموں سے چھوٹی کمپنیوں کو بھی فائدہ ہو سکتا ہے جو کیش انعام تو نہیں دے سکتیں لیکن ہیکروں کو اپنی مصنوعات یا خدمات کی مفت پیشکش کر سکتی ہیں۔ لہذا مجھے امید ہے کہ ہم بگ باؤنٹیز جیسی سکیموں کا اطلاق اور زیادہ دیکھیں گے۔‘







