اینٹی وائرس بنانے والی روسی کمپنی پر ہیکروں کا حملہ

،تصویر کا ذریعہgetty
اینٹی وائرس سافٹ وئیر تیار کرنے والی ایک روسی کمپنی کیسپرسکی لیب کا کہنا ہے کہ اُسے ہیکنگ کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس کے سسٹم پر حملے کا مقصد جدید ترین ٹیکنالوجی کی جاسوسی کرنا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس حملے کے دوران ہیکر تین ٹیکنالوجیوں تک ہی رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
کیسپرسکی کے مطابق وہ اپنے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کر رہی ہیں لیکن انھیں یقین ہے کہ ہیکروں کو ابتدا ہی میں روک لیا گیا تھا۔
کیسپرسکی کے چیف ایگزیٹو انجینیئر نے کہا کہ ’سائبر سکیورٹی کمپنی کی جاسوسی کرنا بہت خطرناک رجحان ہے۔ دنیا کو محفوظ بنانے کا یہی طریقہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سکیورٹی کمپنیاں ان حملہ آوروں سے کھلی لڑائی کریں۔‘
کیسپرسکی کے مطابق ’یہ اب تک ہونے والے حملوں میں سب سے پیچیدہ حملہ تھا۔‘
ہیکنگ فائل مال ویئر سپائیک کمپیوٹر ڈسک پر کوئی فائل تو نہیں چھوڑتا، لیکن کمپیوٹر میں آنے کے بعد اس کا پتہ لگانا بہت مشکل ہے۔
کیسپرسکی نے کہا ہے کہ یہ ٹروجن اس سے قبل ڈوقو (Doqu) کے نام سے سامنے آیا تھا اور اسے ایران، بھارت، فرانس اور یوکرین میں سنہ 2011 میں استعمال کیا گیا تھا۔
خیال ہے کہ پہلے کی طرح اس بار بھی ہیکروں نے ہیکنگ کی خاطر مائیکروسافٹ کے سافٹ ویئر میں خامی کا فائدہ اٹھایا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیسپرسکی لیب کے مطابق مال ویئر مائیکرو سافٹ کی انسٹالر فائلز کے ذریعے سسٹم میں داخل ہوا ہے، جنھیں آئی ٹی ایڈمنسٹریٹر کمپیوٹروں پر سافٹ ویئر انسٹال کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
کیسپرسکی لیب کا کہنا ہے کہ وہ ’مطمئن‘ ہیں کہ اُن کے پارٹنر اور سافٹ ویئر کے صارفین محفوظ ہیں۔
ایک حریف کمپیوٹر کمپنی ایف سیکیور کے چیف ریسرچ آفیسر میکو ہائپونن نے کہا ہے کہ کیسپرسکی پر حملہ ’بڑا واقعہ‘ ہے۔
’ڈوقو 2.0 اس سال کی سائبر سکیورٹی کی اب تک کی سب سے بڑی خبر ہے۔ یہ ایک بڑا مال ویئر ہے۔‘







