امریکی محکمۂ ڈاک پر سائبر حملہ، عملے کی معلومات چوری

امریکہ کا وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی اس واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنامریکہ کا وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی اس واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے

امریکہ کے محکمۂ ڈاک نے کہا ہے کہ سائبر حملے میں اس کے کم از کم چھ لاکھ ملازمین کی نجی معلومات متاثر ہوئی ہیں۔

محکمۂ ڈاک کے مطابق ہیکرز کے حملے میں اس کے کچھ صارفین بھی متاثر ہوئے ہیں تاہم ان کی تعداد کے بارے میں تفصیل نہیں بتائی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مقامی ڈاک خانوں اور محکمے کی ویب سائٹس استعمال کرنے والے صارفین اس سائبر حملے میں متاثر نہیں ہوئے ہیں۔

تاہم معلومات کے لیے محکمے کے کال سنٹر پر فون کرنے والے صارفین متاثرین میں شامل ہو سکتے ہیں۔

امریکہ کا وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی اس واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے۔

محکمۂ ڈاکے ترجمان ڈیوڈ پائٹنحامر کے مطابق عملے کے یومِ پیدائش، نام، سوشل سکیورٹی نمبرز، پتے جیسی معلومات متاثر ہو سکتی ہیں۔

پوسٹ ماسٹر پیٹرک ڈونوہوئے کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’ان دنوں یہ زندگی کی بدقسمت حقیقت ہے کہ ہر ادارہ انٹرنیٹ سے منسلک ہے جو مسلسل سائبر دخل اندازی کی سرگرمیوں کا ہدف رہتا ہے اور امریکہ کی پوسٹل سروس ان سے مختلف نہیں ہے۔‘

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس حملے میں چینی حکومت سے منسلک گروپس ملوث ہیں۔

اس طرح کے گروپ پہلے بھی امریکہ میں سٹیل اور توانائی کے شعبے میں کام کرنے والے نجی اداروں کو ہدف بنا چکی ہیں۔

چین ہمیشہ سے معلومات چوری کرنے کے امریکی الزامات کو مسترد کرتا ہے۔