سائبر مجرموں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ

ٹروئلز اورٹنگ کا کہنا ہے کہ سائبر کرائم سے نمٹنا مشکل کام ہے اور ایسے لوگوں کی تعداد بڑھنے ہی والی ہے
،تصویر کا کیپشنٹروئلز اورٹنگ کا کہنا ہے کہ سائبر کرائم سے نمٹنا مشکل کام ہے اور ایسے لوگوں کی تعداد بڑھنے ہی والی ہے

عالمی پیمانے پر ’تقریبا 100‘ لوگ ہی ہیں جو پوری دنیا کے سائبر جرائم کے لیے ذمہ دار ہیں۔

یورپی یونین کے يوروپولس سائبركرائم سینٹر کے سربراہ ٹروئلز اورٹنگ نے یہ باتیں بی بی سی کے ٹیک ٹینٹ ریڈیو پروگرام کے دوران کہی۔

ان کا خیال ہے کہ تفتیش کرنے والے افسران اگر ’بہترین پروگرامرز کے ایک مختصر گروہ پر توجہ دیں تو بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔‘

انھوں نے کہا: ’ہم انھیں بمشکل ہی جانتے ہیں۔ اگر ہم ان لوگوں کو ناکارہ کر دیتے ہیں تو باقی اپنے آپ گر جائیں گے۔‘

ان کا خیال ہے کہ سائبر کرائم سے نمٹنا مشکل کام ہے اور ایسے لوگوں کی تعداد بڑھنے ہی والی ہے۔

اورٹنگ کہتے ہیں: ’ہم ابھی ان کا سامنا کر سکتے ہیں لیکن مجرموں کے پاس زیادہ وسائل ہیں۔ ان کے سامنے مشکلات بھی نہیں ہیں۔ وہ لالچ اور منافع کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘

اورٹنگ کا کہنا ہے سائبر کرائم سے جڑے بیشتر اہم مجرم روسی زبان بولنے والے علاقوں سے آتے ہیں

،تصویر کا ذریعہTVC News

،تصویر کا کیپشناورٹنگ کا کہنا ہے سائبر کرائم سے جڑے بیشتر اہم مجرم روسی زبان بولنے والے علاقوں سے آتے ہیں

انھوں نے کہا: ’ہم جتنی رفتار سے انھیں پکڑ رہے ہیں وہ اس سے زیادہ تیزی سے مال ویير (کمپیوٹر وائرس) بنا رہے ہیں۔‘

ان کے مطابق سائبر جرائم کا سامنا کرنے میں سب سے بڑی مشکل ایسے مجرموں کا کسی ملک اور سرحد کے باہر ہونا ہے۔

انھوں نے کہا: ’مجرم اب ہمارے ملک میں نہیں آتے۔ وہ بہت دور بیٹھ کر جرم کرتے ہیں۔ عام حکمت عملی سے ہم انھیں نہیں پکڑ سکتے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سائبر کرائم سے جڑے بیشتر اہم مجرم روسی زبان بولنے والے علاقوں سے آتے ہیں۔

اورٹنگ حال ہی میں روسی دارالحکومت ماسکو میں سائبر جرائم پر بات چیت کے لیے گئے تھے۔ انھیں امید ہے کہ مجرموں کو گرفتار کیا جائے گا اور انھیں سزا ملے گی۔

انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی روز افزوں تعداد نے سائبر کے مجرمین کے کام کو قدرے مشکل بنا دیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنانٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی روز افزوں تعداد نے سائبر کے مجرمین کے کام کو قدرے مشکل بنا دیا ہے

انھوں نے کہا کہ سائبر کے جرائم پیشہ افراد مال وییر کو آن لائن پر فروخت کر رہے ہیں۔

عام لوگوں کو ان مجرموں سے کس طرح کا خطرہ ہو سکتا ہے، اس پر اورٹنگ نے کہا: ’آپ کو اپنی ذاتی اور حساس معلومات کی حفاظت کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ آپ کے بارے میں تھوڑی سی معلومات حاصل کر کے وہ آپ کے گوگل، فیس بک یا آئی فون اکاؤنٹ میں تبدیلی کر سکتے ہیں۔‘

تاہم اورٹنگ کا خیال ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی روز افزوں تعداد نے ان کے کام کو قدرے مشکل بنا دیا ہے۔