اے ٹی ایم ہیکنگ: فردِ جرم عائد

امریکی وکلائے استغاثہ کا کہنا ہے کہ سائیبر مجرمان کے گروہ نے محتلف ممالک کے اے ٹی ایم کے ڈیٹا بیس کو ہیک کر کے ساڑھے چار کروڑ امریکی ڈالر چوری کیے۔

اس چوری کے الزام میں سات افراد پر فردِ جرم عائد کیا گیا۔ ان افراد پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے چھبیس ممالک میں اے ٹی ایم سے رقم چوری کی۔

اس گروہ کے آٹھویں کارکن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپریل میں قتل کردیے گئے تھے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق اس گروہ نے متحدہ عرب امارات اور عمان کے بینکوں سے جعلی کارڈ استعمال کر کے رقم چوری کی۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ جاپان، کینیڈا، برطانیہ، رومانیہ اور دیگر بارہ ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس کیس کی تحقیقات میں مدد کی۔

وکیل استغاثہ لوریٹا لنچ نے کہا ’اس گروہ نے بینک لوٹنے کے لیے بندوقوں کی بجائے لیپ ٹاپس اور انٹرنیٹ کا استعمال کیا۔ ‘

اس گروہ کی جانب سے مبینہ طور پر پہلی کارروائی دسمبر میں متحدہ عرب امارات کے ایک بینک میں کی گئی۔ اس گروہ نے ساڑھے چار ہزار بار مختلف کارڈز استعمال کیے اور ای ٹی ایم مشینوں سے پچاس لاکھ ڈالر نکلوائے۔

اس سال فروری میں اس گروہ نے بینک آف عمان سے دس گھنٹوں کے اندر چار کروڑ ڈالر نکلوائے۔

فردِ جرم میں کہا گیا ہے کہ اس گروہ نے رقم نکلواتے ہی میامی میں بینک اکاؤنٹ کھلوایا اور رقم سے مہنگی گاڑیاں اور گھڑیاں خریدیں۔