سائبر حملے سے پلےسٹیشن کا نیٹ ورک بند

سائبر حملہ آوروں نے پلے سٹیشن کے صارفین کو نیٹ ورک استعمال کرنے سے روکنے کی کوشش کی

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library

،تصویر کا کیپشنسائبر حملہ آوروں نے پلے سٹیشن کے صارفین کو نیٹ ورک استعمال کرنے سے روکنے کی کوشش کی

اتوار کے روز سونی پلے سٹیشن نیٹ ورک پر ہونے والے سائبر حملے کے بعد دن کے زیادہ تر حصے میں نیٹ ورک بند رہا۔ بظاہر یہ حملہ کئی آن لائن گیمنگ ویب سائٹس کے خلاف مہم کا حصہ ہے۔

اس اختتامِ ہفتہ مائیکروسافٹ ایکس باکس لائیو، بلزرڈ کے بیٹل ڈاٹ نیٹ اور گرائنڈنگ گیمز سمیت کئی ویب سائٹس تعطل کا شکار رہیں۔

اسی دوران سونی کے اعلیٰ افسران کے جہاز پر بم کی افواہ بھی سامنے آئی۔ اس جہاز کا رخ بم کے خطرے کے باعث موڑنا پڑا۔ بم کی یہ اطلاع ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ کی طرف سے آئی تھی۔ اسی اکاؤنٹ نے آن لائن حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔

امریکی تفتیشی ادارہ ایف بی آئی اس واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے۔

اس حملے میں سائبر حملہ آوروں نے پلے سٹیشن کے نیٹ ورک پر اتنا دباؤ ڈالا کہ نیٹ ورک کے 52 کروڑ استعمال کنندگان والوں کو اس تک رسائی مشکل ہو گئی۔

ایک بلاگ پوسٹ میں سونی نے کہا کہ سائبر آوروں نے کسی کی ذاتی معلومات حاصل نہیں کیں۔

ایک بلاگ پوسٹ میں سونی نے کہا کہ سائبر آوروں نے کسی کی ذاتی معلومات حاصل نہیں کیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایک بلاگ پوسٹ میں سونی نے کہا کہ سائبر آوروں نے کسی کی ذاتی معلومات حاصل نہیں کیں

سونی کے ایک بیان کے مطابق: ’بڑی تعداد میں مصنوعی ٹریفک جاری کر کے پلے سٹیشن نیٹ ورک اور سونی انٹرٹینمنٹ نیٹ ورک کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس مسئلے کو جلد حل کرنے کے طریقے ڈھونڈنے میں مصروف ہیں اور امید ظاہر کی کہ جلد از جلد نیٹ ورک پھر چلنا شروع کر دے۔

جس ٹوئٹر اکاؤنٹ نے سونی اور دوسری گیمنگ کمپنیوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی اس نے انھیں عراقی و شامی جہادی تنظیم دولتِ اسلامیہ سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ ایک ٹویٹ میں کہا گیا: ’کفار کو اس وقت تک وڈیو گیمز نہیں کھیلنے دی جائیں گی جب تک دولتِ اسلامیہ پر حملے روک نہیں دیے جاتے۔‘

تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا اس میں کچھ حقیقت بھی ہے یا یہ محض بھٹکانے کی کوشش ہے۔ اس سے قبل اسی اکاؤنٹ سے کہا گیا تھا: ’سونی ایک اور بڑی کمپنی ہے لیکن وہ اپنے پاس موجود بڑی رقم کو اپنے صارفین پر خرچ نہیں کرتی۔ یہ لالچ بند کرو۔‘