ویڈیو گیمز کیسے آپ کے دماغ کو تبدیل کرتی ہیں

ماہرینِ نفسیات میں اس بات پر اختلافات ہیں کہ ویڈیو گیمز کی وجہ سے لوگ تشدد پسند ہو جاتے ہیں
،تصویر کا کیپشنماہرینِ نفسیات میں اس بات پر اختلافات ہیں کہ ویڈیو گیمز کی وجہ سے لوگ تشدد پسند ہو جاتے ہیں

ویڈیو گیمز کی انڈسٹری دنیا بھر میں ہے اور اس وقت گیمز کھیلنے والوں کی تعداد ایک ارب 20 کروڑ ہے اور ایک اندازے کے مطابق جلد ہی گیمز کی سالانہ فروخت ایک کھرب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

ویڈیو گیمز کی لت اور تشدد کے سبب بننے کے الزامات اکثر اوقات سامنے آتے ہیں لیکن تین دہائیوں پر محیط تحقیق کے بعد بھی سائنس دان کسی متفقہ رائے پر نہیں پہنچ سکے۔

تجربہ گاہوں میں کی گئی تحقیقات میں بعض سائنس دانوں کو معلوم ہوا کہ تشدد سے بھرپور گیم کھیلنے والے افراد کے غصے میں چار فیصد تک اضافہ ہو جاتا ہے۔

لیکن محققین کے ایک دوسرے گروپ کی رائے کے مطابق خاندانی پس منظر، ذہنی صحت اور مرد ہونے جیسے عوامل غصے کی معیار کو جانچنے میں زیادہ قابل ذکر ہیں۔

یہ بات یقینی ہے کہ سائنس ویڈیو گیمز اور حقیقی زندگی میں تشدد کے رویے کے درمیان رسمی تعلق نہیں تلاش کر سکی۔

لیکن اس تنازعے سے الگ ایک اور تحقیق میں دکھایا گیا ہے کہ ان ویڈیو گیمز کے بارے میں مختلف آرا سامنے آئی ہے۔

ماہرِ نفسیات میں اس بات پر اختلافات ہیں کہ ویڈیو گیمز کی وجہ سے لوگ تشدد پسند ہو جاتے ہیں۔

دنیا بھر میں دیگر محققین ویڈیو گیمز میں پوشیدہ فوائد کے بارے میں جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جنیوا یونیورسٹی کی پروفیسر ڈیفن بیولیر نے ویڈیو گیمز کھیلنے اور نہ کھیلنے والوں کی بصری خصوصیات کا موازنہ کیا ہے۔

ایک ٹیسٹ میں شامل افراد کو حرکت کرتی مختلف چیزوں پر ہر صورت نظر رکھنا تھی۔

پروفیسر ڈیفن بیولیر کے مطابق ان کے مشاہدے میں یہ سامنے آیا کہ یہ کام ایکشن ویڈیو گیمز کھیلنے والوں نے گیمز نہ کھیلنے والوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر انداز میں کیا۔

دماغی ورزش کی ویڈیو گیمز ایک عرصے سے بے انتہا مقبول رہی ہیں لیکن اس بات کے کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے کہ سے کوئی دماغی فائدہ پہنچ سکتا ہے
،تصویر کا کیپشندماغی ورزش کی ویڈیو گیمز ایک عرصے سے بے انتہا مقبول رہی ہیں لیکن اس بات کے کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے کہ سے کوئی دماغی فائدہ پہنچ سکتا ہے

پروفیسر بیولیر کے نظریے کے مطابق تیز گیمز کھیلنے والوں کو سکرین پر نظر آنے والی چیزوں پر مسلسل ایک کے بعد ایک پر توجہ مرکوز کرنا ہوتی ہے جبکہ اس کے علاوہ گیم کے ماحول کے مطابق انھیں کسی بھی تبدیلی کے حوالے سے چوکس رہنا پڑتا ہے۔

یہ سب دماغ کے لیے چیلنج ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے سامنے آنے والی بصری معلومات کو زیادہ بہتر انداز میں پروسیس کرتا ہے۔

برلن میں انسانی رویوں پر کام کرنے والے میکس پلینک انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر سائمن کوہن نے بھی ویڈیو گیمز کے دماغ پر مرتب ہونے والے اثرات پر تحقیق کی ہے۔

ایک تحقیق میں انھوں نے فنکشنل ایم آر آئی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا۔ تحقیق میں شامل افراد نے سپر ماریو 64 ڈی ایس گیم دو ماہ تک کھیلی اور اس دوران ان کے دماغ کا مشاہدہ کیا گیا۔

انھوں نے مشاہدہ کیا کہ حیرت انگیز طور پر دماغ کے تین ایسے حصے بڑھ گئے ہیں جو نیویگیشن اور موٹر کنٹرول سے متعلق ہیں۔

یہ ویڈیو گیم اس حوالے سے بھی منفرد تھی کہ اس کی ٹاپ سکرین پر مناظر تھری ڈی میں نظر آتے تھے جبکہ سکرین کے نچلے حصے میں مناظر ٹو ڈی میں نظر آتے ہیں۔

پروفیسر کوہن کے خیال میں مختلف طریقوں سے ایک ہی وقت میں سمتوں کا تعین کرنے کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ دماغ کی نشوونما کو بڑھا دیا ہو۔

اس وقت جس تحقیق میں سب سے زیادہ جوش و جذبہ پایا جاتا ہے جس میں یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا ویڈیو گیمز بڑھاپے میں دماغ کے کمزور ہونے کے عمل کو روک سکتی ہے۔

دماغی ورزش کی ویڈیو گیمز ایک عرصے سے بے انتہا مقبول رہی ہیں لیکن اس بات کے کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے کہ سے کوئی دماغی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

تاہم یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے پروفیسر ایڈم گزیلے اور ویڈیو گیمز ڈیزائن کرنے والی ایک ٹیم نے مختلف گیم نیورو ریسر (neuroracer) تیار کی۔

 نیورو ریسر کھیلنے والوں کو ایک گاڑی پر نظر رکھنے کے علاوہ دیگر امور سرانجام دینے تھے
،تصویر کا کیپشن نیورو ریسر کھیلنے والوں کو ایک گاڑی پر نظر رکھنے کے علاوہ دیگر امور سرانجام دینے تھے

اس گیم کو بڑی عمر کے افراد کے لیے تیار کیا گیا تھا جس میں کھیلنے والوں کو ایک گاڑی کی رہنمائی کرنا ہوتی ہے اور اس کے ساتھ دیگر دی گئی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہوتا ہے۔

12 گھنٹے تک گیم کھیلنے والے بڑی عمر کے افراد کے مشاہدے سے پروفیسر گزیلے کو معلوم ہوا کہ ان افراد کی پرفارمنس میں بہتری آئی ہے اور انھوں نے پہلی بار یہ گیم کھیلنے والے 20 سالہ کھلاڑیوں کو ہرا دیا۔

انھوں نے بھی مشاہدہ کیا کہ ان کی ورکنگ یادداشت میں بھی بہتری آئی ہے اور توجہ دینے کے دورانیے میں اضافہ ہوا ہے۔

قطعی طور پر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ویڈیو گیمز کھیلنے کی خوصیات کو حقیقی دنیا میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔