ناسا کو جنگی جہازوں کی ضرورت کیوں؟

،تصویر کا ذریعہ
وہ ان کو ’چیز پلینز‘ یعنی پیچھا کرنے والے جہاز کہتے ہیں۔ یہ ان جنگی ہوائی جہازوں کا دستہ ہے جسے عموماً یو ایس ایئر فورس، نیوی اور میرین کورپس چلاتی ہے۔ لیکن ان تیز جیٹ جہازوں کا مشن ذرا مختلف ہے۔ یہ پائلٹوں کو خلا باز بنانے اور ناسا کے خلائی اور تجرباتی جہازوں پر نظر رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایف۔15ڈی ایگل فائٹر جہاز کا پائلٹ ایک کے سی۔135 ٹینکر جہاز کے پیچھے پیچھے اپنا جہاز اڑا رہا ہے۔ ان جہازوں کے پائلٹوں کو تربیت دی جاتی ہے کہ کس طرح انھوں نے لمبے مشنوں کے لیے ان ’فضائی پیٹرول سٹیشنوں‘ کی مدد سے اپنی تیل کی ٹنکیاں بھرنی ہیں۔
اس کام کے لیے بڑی مہارت کی ضرورت ہے۔ فائٹر جہاز کے پائلٹ کو اپنا فائٹر جہاز ٹینکر جہاز کے پیچھے لانا ہوتا ہے اور ایسی پوزیشن لینی ہوتی ہے کہ ٹینکر کی لچکدار نلی جہاں سے پیٹرول آتا ہے ایف۔15 کے تیل کی ٹینکی میں آ کر لگ جائے۔ ٹینکر جہاز میں ایک آپریٹر جسے بوم آپریٹر کہا جاتا ہے ضرورت پڑنے پر نلی کو ملانے کے لیے تھوڑی بہت تبدیلیاں بھی کر دیتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ
سو ناسا کو کیوں اس طرح کے تیز جہازوں کی ضرورت ہے جو کہ عام طور پر ایئر فورس کے پاس ہوتے ہیں۔ چیز پلینز ناسا کی لسٹ پر بہت عرصے سے ہیں۔ 1960 کی دہائی میں فرنٹ لائن جنگی جہازوں جن میں راکٹ کی شکل والا ایف۔104 سٹارفائٹر بھی شامل تھا، تبدیلیاں کر کے انھیں تیز رفتاری اور بلندی پر اڑنے کے لیے تیار کیا گیا۔
چیز پلینز کو ناسا کی دوسری خلائی گاڑیوں کی پروازوں کی نگرانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے پائلٹ تربیتی پروازوں میں بطور نگران ہوتے ہیں اور وہ کیمرے کا کام بھی کرتے ہیں۔ ناسا کے پاس 1960 کی دہائی سے ٹی۔38 ٹیلون ٹرینرز کا ایک پورا دستہ موجود ہے۔ خلائی شٹل کی لینڈنگ کے وقت ٹی۔38 بھی خلائی شٹل کے ساتھ اڑا کرتا تھا۔
اب اس دستے میں ایف۔15 اور یو ایس نیوی کے ایف/اے۔18 جہاز موجود ہیں، اور دونوں ہی نہ صرف تربیتی پروازوں کی نگرانی کرتے ہیں بلکہ انھیں مستقبل کے خلا بازوں کے جہاز اڑانے کی مہارت کو بھی قائم رکھنا ہے۔



