ریو کی اولمپکس جھیل سے لاکھوں مردہ مچھلیاں برآمد

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مچھلیاں آلودگی کی وجہ سے آکسیجن کی کمی کا شکار ہو کر ہلاک ہوئیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مچھلیاں آلودگی کی وجہ سے آکسیجن کی کمی کا شکار ہو کر ہلاک ہوئیں

برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں ایک جھیل سے لاکھوں مردہ مچھلیوں کی برآمدگی کے بعد اولمپکس کے میزبان شہر میں ماحولیاتی آلودگی کا معاملہ ایک بار پھر ابھر کر سامنے آگیا ہے۔

یہ مردہ مچھلیاں اسی جھیل سے ملی ہیں جہاں 2016 کے اولمپکس کے دوران کشتی رانی کے مقابلے منعقد ہونا ہیں۔

گذشتہ ایک ہفتے کے دوران 60 افراد پر مشتمل ٹیم نے جھیل سے 33 ٹن سے زیادہ مردہ مچھلیاں نکالی ہیں۔

ریو کے ماحولیاتی سیکریٹیریٹ کا کہنا ہے کہ یہ مچھلیاں پانی کے درجۂ حرارت میں اچانک تبدیلی کی وجہ سے ہلاک ہوئیں تاہم سائنسدانوں نے ان کے اس دعوے کو رد کر دیا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مچھلیاں آلودگی کی وجہ سے آکسیجن کی کمی کا شکار ہو کر ہلاک ہوئیں۔

اس علاقے میں کام کرنے والے ایک سمندری ماہر پال راسمین نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ پانی میں کائی کی زیادتی کی وجہ سے وہاں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس جمع ہو گئی۔

جنوری میں برازیلی حکام نے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ وہ خلیج گوانابارا میں آبی آلودگی میں 80 فیصد کمی کا ہدف حاصل نہیں کر پائیں گے
،تصویر کا کیپشنجنوری میں برازیلی حکام نے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ وہ خلیج گوانابارا میں آبی آلودگی میں 80 فیصد کمی کا ہدف حاصل نہیں کر پائیں گے

ان کا کہنا تھا کہ ’جھیل کے پانی میں فضلہ ملنے سے روکنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں اور جو چیز ممکن ہوئی اسے وہاں سے نکالا گیا ہے۔‘

تاہم راسمین کے مطابق ’فضلے کو روکنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نے کائی کی نشوونما روک دی ہے۔ اس کی وجہ تو پانی میں غذائی اجزا کی زیادتی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ برازیلی حکومت نے اس جھیل میں پانی کے معیار میں بہتری کی تجاویز رد کی ہیں جن میں سمندر تک پانی پہنچانے کے لیے نہروں کی کھدائی کی تجویز بھی تھی۔

ریو کے گورنر لوئیز فرنینڈو پیزاؤ نے رواں ہفتے ہی کہا تھا کہ آئندہ برس اگست میں اولمپکس سے قبل صفائی کا عمل مکمل کرنے کا وقت نہیں ہے۔

جنوری میں برازیلی حکام نے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ وہ خلیج گوانابارا میں آبی آلودگی میں 80 فیصد کمی کا ہدف حاصل نہیں کر پائیں گے۔