برازیل میں فٹبال ورلڈ کپ کے خلاف مظاہرے

،تصویر کا ذریعہAP
برازیل کے شہر ساؤ پالو اور ریو ڈی جنیرو میں فٹبال کے عالمی کپ کے انعقاد پر ہونے والے اخراجات کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔
جمعرات کو برازیل کے 50 شہروں میں مظاہروں کے انعقاد کا اعلان کیا گیا تھا۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ورلڈ کپ کے انعقاد پر کروڑوں ڈالر خرچ کرنے کی بجائے اس پیسے کا استعمال بہتر صحت، تعلیم، اور ٹرانسپورٹ وغیرہ کی بہتر سہولیات کے لیے کیا جانا چاہیے۔
برازیل میں پولیس، ٹیچرز، سرکاری ملازمین اور ٹرانسپورٹ کے عملے نے بھی حکومت سے بہتر عوامی خدمات کا مطالبہ کرتے ہوئےملک بھر میں ہڑتال کی ہے۔
مظاہرین نے ساؤ پالو کی اہم سڑکوں کو بند کر کے احتجاجاً ٹائر جلائے اور احتجاج کے دوران مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گولوں کا استعمال کیا ہے۔
2014 کے فٹبال ورلڈ کا آغاز بارہ جون کو ساؤ پاؤلو کے ایرینا کورنتھیئنز سے ہونا ہے اور اس سٹیڈیم کے نزدیک سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
برازیل میں بے گھر افراد کی تحریک کے سربراہ گالیمائے بیواس نے کہا کہ’افراتفری کی ضرورت نہیں، ہمارا مقصد علامتی ہے۔ ہم سٹیڈیمز کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے بلکہ ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ مزدوروں کو مکانات تک رسائی ہو اور عالمی کپ کے انعقاد سے غریبوں پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کے نامہ نگار گیری ڈافعی کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق ان مظاہروں میں وہ افراد بھی شامل تھے جن کے مکانات اور زمینوں پر سٹیڈیمز تعمیر کرنے کے لیے قبضہ کیا گیا اور انھیں زیادہ کرایے پر رہائش کے لیے مکانات حاصل کرنے پر مجبور کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ رواں سال عالمی کپ اور صدارتی انتخابات کو کئی گروپ حکومت پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کا ایک موقع سمجھتے ہیں۔
برازیل میں جمعرات کو منعقدہ احتجاجی مظاہرے گذشتہ سال جون میں ہونے والے مظاہروں سے چھوٹے تھے۔ گذشتہ سال ہونے والے مظاہروں میں دس لاکھ کے قریب افراد نے شرکت کی تھی۔
گذشتہ سال فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے جنرل سیکریٹری نے برازیلی عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ فٹبال ورلڈ کپ کے دوران ملک میں مظاہرے نہ کریں۔







