موٹاپا مخبوط الحواسی سے بچاؤ میں مددگار

 اندازہ ہے کہ 2050 تک دنیا میں ڈیمنشیا سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ 35 لاکھ تک جا پہنچے گی

،تصویر کا ذریعہSPL

،تصویر کا کیپشن اندازہ ہے کہ 2050 تک دنیا میں ڈیمنشیا سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ 35 لاکھ تک جا پہنچے گی

ایک جامع اور نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ موٹاپا ڈیمنشیا یا مخبوط الحواسی میں مبتلا ہونے کے امکانات کو کم کرتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ ان کے لیے یہ نتائج حیران کن ہیں کیونکہ یہ موجودہ خیالات سے متصادم ہیں۔

اس تحقیق کے دوران 20 لاکھ برطانوی افراد کا تجزیہ کیا گیا جس سے پتہ چلا کہ کم وزن افراد کے مخبوط الحواس ہونے کا خطرہ زیادہ ہے۔

ڈیمنشیا دورِ جدید میں صحت کے اہم ترین مسائل میں سے ایک ہے اور اندازہ ہے کہ 2050 تک دنیا میں اس سے متاثرہ افراد کی تعداد تین گنا بڑھ کر ایک کروڑ 35 لاکھ تک جا پہنچے گی۔

تاحال مخبوط الحواسی کا کوئی علاج دریافت نہیں کیا جا سکا اور اس سے بچاؤ کے لیے صحت مندانہ طرزِ زندگی اپنانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

تحقیق کے دوران لندن سکول آف ہائیجین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن میں اوسطاً 55 برس عمر کے 1958191 افراد کے طبی ریکارڈز کا دو دہائیوں تک جائزہ لیا گیا۔

تاحال مخبوط الحواسی کا کوئی علاج دریافت نہیں کیا جا سکا ہے

،تصویر کا ذریعہSPL

،تصویر کا کیپشنتاحال مخبوط الحواسی کا کوئی علاج دریافت نہیں کیا جا سکا ہے

اس جائزے سے یہ بات سامنے آئی کہ کم وزن افراد کے اس بیماری میں مبتلا ہونے کے امکانات نسبتاً زیادہ وزن والوں کے مقابلے میں 39 فیصد زیادہ رہے۔

لیکن جو افراد فربہ تھے ان میں اس بیماری کے امکانات میں 18 سے 24 فیصد تک کی کمی دیکھی گئی۔

تحقیق کے انچارج ڈاکٹر نواب قزلباش کا کہنا ہے کہ ’یہ یقیناً ہمارے لیے حیرانی کی بات ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’تحقیق میں متنازع بات یہی ہے کہ موٹے افراد کے مخبوط الحواس ہونے کے امکانات تندرست اور مناسب وزن والے افراد کے مقابلے میں کم ہیں۔‘

ڈاکٹر قزلباش نے کہا کہ ’یہ نتائج اب تک اس تعلق کے بارے میں ہونے والی تمام تحقیقوں کے خلاف ہیں لیکن اگر آپ ان تمام تحقیقوں کو ملا بھی لیں تب بھی ہماری تحقیق حجم اور ہدف کے حساب سے ان سے آگے ہے۔‘