بال نوچنے سے اور پیدا ہوں گے

،تصویر کا ذریعہ
امریکہ میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق سر کے بالوں کو ایک خاص طریقے سے اکھاڑنے یا نوچنے سے وہاں مزید بال اگ آتے ہیں۔
جتنے بال نوچے گئے، ان کے ردِ عمل میں جسم خود کو پہنچنے والے زخم کا ادراک اسی تناسب سے کرتا ہے اور پھر اتنے ہی زیادہ بال دوبارہ اگ آتے ہیں۔
سائنسی جریدے ’سیل‘ میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق تحقیق کاروں کی ٹیم نے چوہے کے 200 بال نوچے جس کے بعد اس کے 1,300 بال اگ آئے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ’بہت اچھی سائنس‘ ہے لیکن ابھی وہ یہ بات یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اس سے انسانی گنج پن کا علاج ہو پائے گا۔
آدھے سے زیادہ مرد 50 سال کی عمر تک پہنچنے تک گنجے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کی ٹیم اس بات پر تحقیق کر رہی ہے کہ کس طرح بالوں کے غدود ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں کہ انھیں کتنے بالوں کی مرمت کرنی ہے۔
مختلف تجربات میں انھوں نے چوہے کے جسم سے ایک دائرے کی شکل میں بالوں کی 200 کی سادہ نالی نما تھیلیاں اتار دیں۔
ان کو معلوم ہوا کہ جب بال چھ ملی میٹر کے قطر سے اتارے گئے تھے تو وہ دوبارہ نہیں اگے۔ لیکن جب پانچ ملی میٹر کے قطر سے 200 بال اتارے گئے تو 1,300 سو نئے بال اگ آئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی طرح جب اتنے ہی بال چار ملی میٹر کے قطر سے اتارے گئے تو 780 نئے بال اگے۔
ہر بال اکھاڑنے سے نیا بال اگ آتا تھا لیکن اس سے کوئی اضافی بال نہیں اگتا تھا۔
تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ جلد کے اندر کی سوزش کی سطح بھی زخم کے حساب سے ہی ہوتی ہے، اور کیمیائی اشاروں اور مدافعت کے ردِعمل کی بوچھاڑ کی وجہ سے یہ بالوں کے نئے سرے سے اگنے کے عمل کو کنٹرول کرتی ہے۔
ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ ایسا ہی ہے جیسے ہر بال کو اس بارے میں ووٹ ملتا ہے کہ آگے کیا ہونا ہے اور جب یہ ایک انتہائی حد تک پہنچ جاتا ہے تو بال اگنا شروع ہو جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
تحقیق کے اہم رکن ڈاکٹر چینگ منگ چوؤنگ نے کہا کہ ’یہ ایک بہترین مثال ہے کہ کس طرح بنیادی تحقیق انتہائی اہمیت کے کام کی طرف لے جاتی ہے۔
’اس تحقیق سے گنج پن کا علاج ممکن ہو سکتا ہے۔‘
یونیورسٹی کالج لندن کے ریجنریٹو میڈیسن کے پروفیسر کرس میسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ سائنس کا ایک اچھا نمونہ ہے۔ کورم کا احساس ایک اچھا خیال ہے۔‘
لیکن اس سے یہ نہیں پتہ چلتا کہ اس سے انسانی گنج پن کا علاج ممکن ہو گا۔
پروفیسر میسن کہتے ہیں کہ یہ ایک ملین ڈالر کا سوال ہے: ’مجھے نہیں پتہ۔ لیکن اب تک یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ کو کچھ بال تو نوچنے پڑیں گے۔‘







