گنجے پن کا علاج ’چند قدم اور قریب‘

سائنسدانوں کے مطابق لیبارٹری میں انسانی بال اگانے کے بعد وہ گنج پن کے خاتمے کے ایک قدم قریب پہنچ گئے ہیں۔
امریکی اور برطانوی سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر ٹشوز کے نمونے سے نئے بال پیدا کیے ہیں۔
ابھی اس ضمن میں بہت تحقیق کی ضرورت ہے تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس طریقے میں گنج پن کے خاتمے کی صلاحیت موجود ہے۔
یہ تحقیق طبی رسالے پروسیڈنگز آف دا نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہوئی ہے۔
اس وقت گنج پن کے علاج کے لیے بال گرنے کے عمل کو روکنے کے لیے یا تو ادویات استعمال کی جاتی ہیں یا پھر سر کے پچھلے حصے سے بال اتار کر گنجے حصوں میں دوبارہ پیوند کاری کی جاتی ہے۔
برطانیہ کی ڈرہم یونیورسٹی اور امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی میڈیکل سنٹر کے سائنسدانوں اس کوشش میں ہیں کہ انسانی سر پر نئے بال اگائے جا سکیں۔
ان کا ابتدائی منصوبہ یہ ہے کہ بالوں کی جڑوں سے حاصل کیے جانے والے مواد کی مدد سے نئے بال اگائے جائیں۔ لیکن جانوروں میں اس تجربے کی کامیابی کے برعکس انسانوں میں بال پیدا کرنے کا عمل انتہائی پیچیدہ ہے۔
جب بھی انسانی بال کی جڑوں سے خلیے نکال کر ٹرانسپلانٹ کیے جاتے ہیں تو تو وہ نئے بال اگانے کی بجائے جلد کے خلیے پیدا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم سائنسدانوں کے مطابق اگر انسانی بالوں کے خلیوں کو گیند نما ڈش ( 3D spheroids) میں اگانے کے بعد سر پر ٹرانسپلانٹ کیا جائے تو اس صورت میں وہ دوبارہ بال اگانے کی صلاحیت برقرار رکھتے ہیں۔
اس تحقیق میں سات لوگوں کے بالوں کے ٹشوز حاصل کرنے کے بعد انہیں گیند نما ڈش میں اگایا گیا، جس کے بعد انھیں انسانی جلد میں پیوست کر دیا گیا جس کی پیوندکاری چوہوں کی کمر پر کی گئی تھی۔
چھ ہفتوں کے بعد سات میں پانچ نمونوں میں بالوں کے غدود پیدا ہو گئے اور کچھ نئے چھوٹے چھوٹے بال اگنا شروع ہو گئے۔
ڈرہم یونیورسٹی کے پروفیسر کولن جاہواد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گنج پن کا خاتمہ ممکن ہے لیکن فی الحال اس مرض کے شکار مردوں کو چاہیے کہ وہ اپنی وگ سنبھال کر رکھیں۔
’ہم بہت قریب ہیں، لیکن اب کچھ دور بھی ہیں کیونکہ اس میں یہ عوامل ہیں کہ لوگ کیا چاہتے ہیں، دوبارہ بال کس شکل کے ہوں، ان کا سائز کیا ہو اور کتنے لمبے ہوں اور ان کا زاویہ کیا ہو اور ان میں سے کچھ مسائل انجینیئرنگ کی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔‘
’میرے خیال میں آخرکار گنج پن مکمل طور پر قابل علاج ہو جائے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ بتانا مشکل ہو گا کہ اس میں کتنا وقت لگے گا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو ہم نے کیا ہے اس سے اس شعبے میں دوبارہ دلچپسی پیدا ہوئی ہے۔‘







