ناسا کا ڈان مشن سیریس کے مدار میں داخل ہو گیا

سیرس مشتری اور مریخ کے درمیان واقع شہابیے کی پٹی میں سب سے بڑا اجرام فلکی ہے

،تصویر کا ذریعہNasa

،تصویر کا کیپشنسیرس مشتری اور مریخ کے درمیان واقع شہابیے کی پٹی میں سب سے بڑا اجرام فلکی ہے

امریکہ کی خلائی ایجنسی ناسا نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ اس کا ڈان مشن سیریس کے مدار میں داخل ہو گیا ہے۔

سیریس مشتری اور مریخ کے درمیان واقع شہابیے کی پٹی میں سب سے بڑا اجرام فلکی ہے۔

ڈان مشن کو اپنے منزل پر پہنچنے میں ساڑھے سات سال لگے ہیں اور یہ اگلے 14 مہینوں میں ان چھوٹی سی دنیا کے بارے میں معلومات جمع کرے گا۔

سیریس پہلا ایسا بونا سیارہ ہے جس پر کوئی خلائی گاڑی پہنچی ہے۔

اس تحقیق سے نظام شمسی کے آغاز کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے۔

تحقیقی خلائی جہاز سیریس کی طرف نسبتاً سست رفتاری سے جا رہا تھا اور سیریس کی کشش ثقل اسے بڑی آہستگی سے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔

ڈان نامی خلائی سیریس پر جانے سے پہلے ایک دوسرے شہابیے ویسٹا پر گئی ہے۔

جب ڈان نامی خلائی جہاز سیریس کے انتہائی قریب پہنچے گا تو دونوں کے درمیان فاصلہ تقریباً 40 ہزار کلو میٹر ہو گا۔

ناسا کے ایک اہلکار کے مطابق سیریس اور خلائی جہاز کے درمیان کا فاصلہ چاند اور زمین کے فاصلے سے دس گنا قریب ہے۔

سیریس کے مدار پر داخل ہونے والا خلائی جہاز ویسٹا نامی شہابیے پر جا چکا ہے۔ ویسٹا اور سیریس دونوں اس پتھریلی پٹی پر واقع ہیں جو مریخ کی حدّوں سے آگے سورج کے گرد چکر لگاتی ہے۔

دونوں شہابیے میں سے سریس 950 کلو میٹر چوڑا ہے جبکہ ویسا کا قطب 525 کلو میٹر ہے۔