ڈومزڈے والٹ میں پہلی بار جنگلی درختوں کے بیج

سالبارڈ جزیرے کے پہاڑوں کے بہت اندر واقع یہ والٹ بارہ ماہ میں بن کر تیار ہوا تھا اور اسے بنانے میں پانچ ملین پاؤنڈ خرچ ہوئے

،تصویر کا ذریعہGCDT

،تصویر کا کیپشنسالبارڈ جزیرے کے پہاڑوں کے بہت اندر واقع یہ والٹ بارہ ماہ میں بن کر تیار ہوا تھا اور اسے بنانے میں پانچ ملین پاؤنڈ خرچ ہوئے

پوری دنیا میں پائے جانے والی غذائی اشیا کے بیجوں کو سنبھال کر رکھنے والے ’بیجوں کے بینک‘ یا والٹ نے پہلی بار جنگل کے درختوں کے بیجوں کو قبول کیا ہے۔

ناورے کے جزیرے سپٹسبرگن پر واقع بیجوں کو اس بینک کو ’ڈومس ڈے والٹ‘ یعنی قیامت کے دن کام آنے والا خزانہ کہا جاتا ہے۔

ناورے میں ’آرکٹک آرکیپیلیگو‘ کے پہاڑوں پر واقع اس والٹ میں ناورے میں ہی پائے جانے والے سپورس اور سکوٹس نامی پائن یا چیڑ کے درختوں کے بیجوں کو محفوظ رکھا گیا ہے۔

اس فروزن یعنی برف سے جمی والٹ کو 2008 میں بنایا گیا تھا اور اس کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ہر انسانی اور قدرتی آفت سے محفوظ رہے گی۔

محققین کا خیال ہے اس والٹ میں اب جنگلی درختوں کے بیجوں کو رکھے جانے کے بعد جنگلوں میں پیش آنے والی جینیاتی تبدیلوں کی نگرانی کرنے میں مدد حاصل ہوگی۔

فن لینڈ کی قدرتی ذرائع کے بارے میں تحقیق کرنی والی ’نیچرل ریسورسز انسٹیٹیوٹ‘ میں ایک محقق ماری روسانن کا کہنا ہے ’جنگلی درختوں کے بیجوں کو اس والٹ میں سنبھال کر رکھنا ہمارے جنگلات میں ہونے والی جینیاتی تبدیلوں سے متعلق ریسرچ کرنے والوں کے لیے اچھی خبر ہے۔‘

روسانن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس والٹ میں بیج سنبھال کر رکھنے سے ایک طرح سے ذہنی سکون ملا ہے کہ کیونکہ قدرتی آفت کی صورتحال میں یہ والٹ بہت کام آئی گی۔

ان درختوں کے بیجوں کا انتخاب اس لیے کیا گیا تھا کیونکہ یہ معاشی، سماجی اور ماحولیاتی اعتبار سے اہمیت کے حامل ہیں
،تصویر کا کیپشنان درختوں کے بیجوں کا انتخاب اس لیے کیا گیا تھا کیونکہ یہ معاشی، سماجی اور ماحولیاتی اعتبار سے اہمیت کے حامل ہیں

جن درختوں کے بیجوں کو اس والٹ میں محفوظ رکھا گیا ہے ان کے نمونے فن لینڈ اور ناورے سے لیے گئے تھے۔

ان درختوں کے بیجوں کا انتخاب اس لیے کیا گیا تھا کیونکہ یہ معاشی، سماجی اور ماحولیاتی اعتبار سے اہمیت کے حامل ہیں۔

بیجوں کی اس بینک کو چلانے والے ادارے گلوبل ’کراپ ڈائیورسٹی ٹرسٹ‘ یعنی جی سی ڈی ٹی کے برائن لینووف کا کہنا ہے جنگلی درختوں کے بیجوں کو اس والٹ میں رکھنے کے پیچھے متعدد وجوہات تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں درخت ایک دوسرے سے جینیاتی طور پر جدا ہوتے ہیں اور ان کے زندہ رہنے یا نہ رہنے میں ماحولیات ایک بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس والٹ میں دیگر ممالک کے درختوں کے بیجوں کو بھی محفوظ رکھنے کا کام کیا جائے گا۔ اس میں اب امریکہ کے محکمہ کاشت کاری سے سویا بین، دالوں اور گندم کی بعض اقسام کے بیج رکھے جائیں گے اس کے علاوہ افریقی ممالک سے دھان کے تقریبا 2500 اقسام کے بیج بھی اس میں شامل کیے جائیں گے۔

افریقہ میں چاولوں کی جینیات سے متعلق تحقیق کے شعبے ’رائس جینیٹک ریسورس یونٹ‘ کی سربراہ ماریا نوئیل جیوینجوب کا کہنا ہے ’امریکی غذائی تحفظ تمام عالمی چیلنجز کا سامنا کررہا ہے اس میں سیاسی غیر استحکام، ماحولیاتی تبدیلی اور آبادی میں اضافے سے متعلق مسائل اہم ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا ہمیں ان فصلوں کی کھیتی کرتے رہنے ہوگا جو ہمیں غذائی بحران سے نمٹنے میں مدد کریں گی۔

اس والٹ میں چودہ طرح کے ٹماٹر کے بیجوں کو بھی شامل کیا جا رہا ہےجن میں سے پانچ نمونوں کو تعلق گالاپاگوس جزیرے سے ہے۔

ناورے کے دوردراز سالبارڈ جزیرے کے پہاڑوں کے بہت اندر واقع یہ والٹ 12 ماہ میں بن کر تیار ہوا تھا اور اسے بنانے میں پانچ ملین پاؤنڈ خرچ ہوئے۔ والٹ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس میں پوری دنیا کے غزائی اشیاء کے نمونے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ والٹ غذائی سازو سامان کی ایک طرح کی انشیورنس ہے اور یہ پوری دنیا میں موجود غذائی اشیاء کے اربوں طرح کے بیجوں کو صدیوں تک محفوظ رکھے گا۔