کیا ٹیکنالوجی کی وجہ سے لوگوں نے چھونا ختم کر دیا ہے؟

ناول نگار ول سیلف کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر کے دور میں چھونے کے احساس ختم ہو رہ ہے

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنناول نگار ول سیلف کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر کے دور میں چھونے کے احساس ختم ہو رہ ہے

ناول نگار ول سیلف کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر کے دور میں چھونے کے احساس کے ساتھ ساتھ انسانی فطرت کا ایک حصہ بھی ختم ہو رہا ہے۔

1957 میں لکھے گئے سائنس فکشن ناول ’دا نیکڈ سن‘ میں ناول نگار اسہاک اسماو نے ایک دنیا، ’سولاریا‘، کا تصور کیا جس میں انسانوں کی ایک چھوٹی سی آبادی اپنی زندگی بہت بڑے مکانوں میں رہ کر گزارتے ہیں اور ان کے پاس کئی روبوٹک نوکر ہیں۔

یہ لوگ کسی بھی قسم کی جسمانی قربت کو شدید ممانعت سمجھتے ہیں اور انسانوں کی افزائش نسل کو ایک سائنسی نظم ایک 3D کانفرنس کال کے ذریعے کرتے ہیں۔ چھونا تو دور کی بات ہے، یہ سولیریئنز اکٹھے ایک کمرے میں بھی نہیں رہتے۔

اسہاک اپنے دور میں دیکھ سکتے تھے کہ ٹیلی مواصلات کے بڑھنے کی وجہ سے انسان مشینوں پر زیادہ انحصار کرنا شروع ہو گئے تھے۔ ایک انسان کے ذاتی رابطے جو اسے ہر وقت بنانے چاہیں، کی تعداد کم ہو رہی تھی۔ مشینوں کی اس موثر اور چمکیلی دنیا کو دیکھ کر ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہماری دنیا ’سولاریا‘ سے بہت فرق ہے؟

اسہاک آسماو نے اپنے ناول میں ایک ایسی دنیا کا کا تصور کیا جس میں انسانوں کے بیچ رابطے ختم ہو چکا ہے

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشناسہاک آسماو نے اپنے ناول میں ایک ایسی دنیا کا کا تصور کیا جس میں انسانوں کے بیچ رابطے ختم ہو چکا ہے

ہمارے پاس روبوٹک نوکر نہیں ہیں لیکن ہم انسانوں کے بجائے روبوٹ اسمبلی لائنز اورٹریفک کنٹرول کے نظام پر انحصار کرتے ہیں، اور اپنے دن کا زیادہ وقت انٹرنیٹ پر مواصلات کرنے میں گزار دیتے ہیں۔

لیکن یہ ٹچ سکرینیں، آٹومیٹک دروازے اور آن لائن شاپنگ ہمیں چھونے کے احساس سے محروم کر رہے ہیں۔ اور خاص طور پر میں لوگوں سے براہ راست رابطہ کرنے کی ضرورت سے بھی محروم کر رہے ہیں۔ شاید ہم سولیریئن بننے سے زیادہ دور نہیں ہیں۔