دمدار ستارے پر روبوٹ اتارنے کے لیے الٹی گنتی شروع

ستمبر میں روزیٹا کے دم دار ستارے تک پہنچے اور اس گرد چکر لگانے کے بعد روبوٹ کو اتارے کا مقام طے کر لیا گیا تھا
،تصویر کا کیپشنستمبر میں روزیٹا کے دم دار ستارے تک پہنچے اور اس گرد چکر لگانے کے بعد روبوٹ کو اتارے کا مقام طے کر لیا گیا تھا

یورپ کا خلائی جہاز روزیٹا 10 سال میں چھ ارب کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد 12 نومبر کو اپنے روبوٹ ’فیلی‘ کو دمدار ستارے 67 پی/ چریوموو گراسیمنکو پر اتارے گا۔

اگر یہ مشن کامیاب ہو جاتا ہے تو فیلی اور روزیٹا نظام شمسی کے وجود میں آنے، زمین پر پانی کے نقطۂ آغاز اور یہاں تک کے زندگی شروع ہونے جیسے سوالات کے جواب تلاش کر سکے گا۔

زمین پر روزیٹا کو کنٹرول کرنے والے عملے کے اس مشن میں سب سے مشکل کام ’فیلی‘ کو 40 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے گھومتے ہوئے دمدار ستارے 67 پی/ چریوموو گراسیمنکو پر کامیابی سے اتارنا ہے۔

ستمبر میں روزیٹا دمدار ستارے تک پہنچا اور اس کےگرد چکر لگانے کے بعد روبوٹ کو اتارے کا مقام طے کر لیا گیا تھا۔

سائنسدانوں اور انجینیئرز نے فیصلہ کیا ہے کہ دمدار ستارے کو مقام ’جے‘ جسے ’اجیلکیا‘ بھی کہا جاتا ہے، پر اتارا جائے گا کیونکہ یہ روبوٹ کو اتارنے کی موزوں ترین جگہ ہے اور تجربات کرنے کے حوالے سے بہترین جگہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

اجیلکیا ایک مربع کلومیٹر پر محیط ہے اور اس جگہ پر چٹانیں، شگاف اور بڑے پتھر موجود ہیں۔ اس وجہ سے لینڈنگ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم اس مقام پر روشنی اچھی پڑتی ہے جس کی وجہ سے روبوٹ پر نصب شمسی پینلز سے اس کو چارج کرنے میں مدد ملے گی جبکہ تاریکی کے دورانیے میں روبوٹ کے درجہ حرارت کو کم کیا جا سکے گا۔

اجیلکیا کے علاوہ سائٹ’سی‘ کو متبادل کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔

مشن کے عملے کے مطابق ان مقامات کا انتخاب کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ روبوٹ اتارنے میں کم سے کم خطرات ہوں۔ اس سے قبل 10 ارب ٹن وزنی دمدار ستارے پر اترنے کی ایسی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔

اس مشن کے آپریشنل معاملات کے سربراہ پاؤلو فیئری کے مطابق’ ہمیں روبوٹ کو ٹھیک اتارنے کے لیے یقینی حد تک خوش قسمتی کی ضرورت ہے۔‘

اگرچہ دمدار ستارے پر روبوٹ کو اتارنے کی تاریخ طے ہے لیکن روزیٹا کو کنٹرول کرنے والا عملہ 12 نومبر کو روبوٹ کو اتارنے یا نہ اتارنے کا عین موقعے پر فیصلہ کرے گا۔

روزیٹا کو کنٹرول کرنے والا عملہ 12 نومبر کو روبوٹ کو اتارنے یا نہ اتارنے کا حتمی فیصلہ کرے گا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنروزیٹا کو کنٹرول کرنے والا عملہ 12 نومبر کو روبوٹ کو اتارنے یا نہ اتارنے کا حتمی فیصلہ کرے گا

یہ روبوٹ برچھے استعمال کر کے اپنے آپ کو دمدار ستارے پر مضبوطی سے نصب کرے گا اور اس کے فوری بعد اپنا کام شروع کر دے گا اور اپنے اوپر نصب مائیکرو کیمروں کی مدد سے اطراف کی پینوراما تصاویر کھینچے گا۔ اگلے ایک گھنٹے میں سائنسی تجربات کا پہلا مرحلہ شروع کر دیے گا اور یہ کوئی 60 گھنٹے تک جاری رہے گا۔

خلائی جہاز روزیٹا دمدار ستارے کے مدار میں چکر لگاتے ہوئے 11 سائنسی آلات کی مدد سے ستارے کا جائزہ لیتا رہے گا۔ اس کے علاوہ ’فیلی‘ سے ڈیٹا بھی حاصل کرتا رہے گا۔

فیلی روبوٹ پر ڈرلز مشینز، کمیرے، اون اور سینسرز نصب ہیں اور ان کی مدد دم دار ستارے کے ماحول، زندگی کے آثار، گیسوں، درجہ حرارت سمیت مختلف عوامل کا جائزہ لے گا۔

یہ مشن یورپی خلائی ایجنسی (ایسا) کا اب تک کا سب سے پیچیدہ مشن ہے۔ اسے سنہ 2004 میں لانچ کیا گیا تھا اور اپنے سفر کے دوران یہ سال 2008 اور 2010 میں دو شہابیوں راک سٹینز اور لوٹیٹیا کے پاس سے گزرا تھا۔

دمدار ستارے 67 پی/ چریوموو گراسیمنکو جسے ’ڈرٹی سنو بال‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے، نظامِ شمسی کے وجود میں آنے کے وقت کے اجزا پر مشتمل ستارہ ہے اور اس سے حاصل ہونے والی معلومات سے ماہرین چار اعشاریہ چھ ارب سال پہلے کے اجزا کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

اس مشن سے دمدار ستاروں کے بارے میں معلومات میں خاطرخواہ اضافہ ہو گا، اور یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ نظامِ شمسی میں زندگی کے اجزائے ترکیبی کی ترسیل میں ان کا کیا کردار رہا ہے۔

اجیلکیا ایک مربع کلومیٹر پر محیط ہے اور اس جگہ پر چٹانیں، شگاف اور بڑے پتھر موجود ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناجیلکیا ایک مربع کلومیٹر پر محیط ہے اور اس جگہ پر چٹانیں، شگاف اور بڑے پتھر موجود ہیں