یو ایس بی سے وائرس کی منتقلی، ’بچاؤ کا کوئی طریقہ نہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty
کمپیوٹر ماہرین نے یو ایس بی کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے استعمال کے بارے میں سوال اٹھائے ہیں۔
جرمنی کے شہر برلن میں کارسٹن نوہل اور جیکب لیل نامی محققین نے کمپیوٹر میں یو ایس بی کے ذریعے خفیہ وائرس کی منتقلی کا طریقہ کار دکھاتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے بچنے کے لیے کوئی جامع حفاظتی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔
تاہم یو ایس بی کے عالمی انتظامی ادارے نے کہا کہ اضافی حفاظتی تدابیر کے لیے یو ایس بی کو مزید محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
نئی تحقیق کے مطابق یو ایس بی اگر بالکل خالی ہو تب بھی اس میں وائرس آ سکتا ہے اور یہ موبائل فون کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔
نوہل نے صحافیوں سےبات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ دنیا کا خاتمہ نہیں ہے لیکن یہ ہمیں اگلے 10 برس تک آہستہ آہستہ اثر کرے گا۔ مختصر یہ کہ آپ یو ایس بی پر پوری طرح بھروسہ نہیں کرسکتے۔‘
یو ایس بی پوری دنیا میں ڈیٹا ٹرانسفر کرنے کا ایک آسان اور تیز ترین ذریعہ ہے۔ اس سے وائرس کمپیوٹر میں داخل ہو جاتے ہیں جو کہ بعد میں کمپیوٹر کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
چار سال قبل ایران کے جوہری نظام میں جو وائرس آیا تھا وہ بھی یو ایس بی کے ذریعے داخل ہوا تھا۔ اس وائرس نے ایران کے جوہری نظام کو بری طرح نقصان پہنچایا تھا۔
یو ایس بی کے استعمال سے پہلے لوگ ڈیٹا ٹرانسفر کے لیے فلوپی ڈسک کا استعمال کیا کرتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یو ایس بی کی مقبولیت کی ایک بہت بڑی وجہ اس کا کنیکٹر تھا جو کہ کمپیوٹر کے علاوہ اور بہت سے الیکٹرانک آلات میں لگ سکتا ہے۔
ان آلات میں یو ایس بی کے لگتے ہی یہ آلہ صارف کو بتا دیتا ہے کہ یہ کس قسم کی یو ایس بی ہے۔
نوہل نے بی بی سی کو یو ایس بی میں وائرس ڈال کر دکھایا جو کہ کمپیوٹر سے لوگوں کے پے پال اکاؤنٹ چرانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔







