’تین لوگ مل کر ایک بچہ پیدا کریں گے‘

،تصویر کا ذریعہOther
ایک سائنسی جائزے میں کہا گیا ہے کہ اگر قانونی منظوری حاصل ہو جائے تو سائنس دان تین لوگوں کے اختلاط سے دو سال میں ایک بچہ تخلیق کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔
اس تکنیک کے تحت دو خواتین کے بیضوں اور ایک مرد کے نطفے کا استعمال کیا جائے گا اور اس کے ذریعے مہلک جینیاتی بیماریوں کی روک تھام کی جا سکتی ہے۔
برطانیہ میں تولید کے ضابطہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تکنیک کے غیر محفوظ ہونے کے شواہد نہیں ملے ہیں، تاہم انھوں نے مزید جانچ کے لیے کہا ہے۔
حکومت عمل تولید کے قوانین میں تبدیلی پر غور کر رہی ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ مخصوص جینیاتی بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم کے ہر ایک خلیے میں موجود اس کے پاور سٹیشن (توانائي کا مرکز) مائٹوکانڈریا کو نقصان پہنچتا ہے۔
تقریباً ساڑھے چھ ہزار میں سے ایک بچے میں مائٹوکانڈریا کی شدید جینیاتی بیماری پائی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان میں کوئی کام کرنے کے لیے درکار توانائی نہیں ہوتی، اس کی وجہ سے ان کے پٹھے یا عضلات کمزور ہو جاتے ہیں، بینائی جاتی رہتی ہے، دل کی دھڑکن متاثر ہوتی ہے اور موت واقع ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
واضح رہے کہ مائٹوكانڈريا صرف ماں سے بچوں میں منتقل ہوتا ہے۔
ہیومن فرٹيلائزیشن اینڈ ایمبريولوجي اتھارٹی (ایچ ایف ای اے) میں شرکت کرنے والے سائنس دانوں کے ایک پینل نے تین لوگوں سے مواد لے کر ان ویٹرو فرٹيلائزیشن (آئی وی ایف یا ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی تکنیک) کی دو ٹیکنالوجیز کا تجربہ کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تجربے میں والدین اور ایک دوسری خاتون سے مواد حاصل کیا گیا جن کے مائٹوکانڈریا صحت مند تھے۔
ايچ ایف ای اے نے اپنی رپورٹ میں اس پر حتمی طور سے عمل کرنے سے پہلے آخری دور کے کچھ ٹیسٹ کرنے کی تجویز دی ہے جس میں مزید دو سال لگ سکتے ہیں۔
میڈیکل ریسرچ کونسل کے پروفیسر اور پینل کے رکن روبن لوویل بیج کا کہنا ہے کہ ’ہمارے سفر کی سمت و رفتار بتاتی ہے کہ یہ پوری طرح محفوظ ہے لیکن ہم ابھی انجام کے بارے میں لاعلم ہیں اس لیے ذرا محتاط ہیں۔‘
انسانی بیضے یا نطفے کے استعمال کرنے سے قبل دونوں مجوزہ تکنیکوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
اس تکنیک سے پیدا ہونے والے بچے اور ان کی آنے والی نسلوں میں بھی مائٹوكانڈريا والی بیماری کے تعلق سے خدشات دور کرنے کے لیے بھی تفصیلی جانچ کی ضرورت ہے۔
مائٹوكانڈريا کے اندر اس کا اپنا ڈی این اے ہوتا ہے اس لیے اس تکنیک سے پیدا ہونے والے بچے میں تینوں لوگوں کا ڈی این اے موجود ہوگا۔
اس پینل کے سربراہ پروفیسر اینڈی گرین فیلڈ نے کہا کہ ’سلامتی براہ راست کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن کیا انسانوں میں یہ تکنیک محفوظ رہے گی، ہم اس کے بارے میں اس وقت تک نہیں جانتے جب تک کہ واقعی انسانوں میں اس کا تجربہ نہ کیا جائے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’جب کہ اس تکنیک سے سو فی صد صحت مند بچہ پیدا نہیں ہوتا اس وقت تک ہم اس کی تکنیک کے محفوظ ہونے کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘

،تصویر کا ذریعہOther
حکومت برطانیہ نے اصولی طور پر تین لوگوں سے ہونے والی اولاد کی حمایت کی ہے۔ چیف میڈیکل افسر پروفیسر ڈیم سیلی ڈیویز نے گذشتہ سال کہا تھا: ’ابھی صرف یہی درست ہوگا کہ ہم زندگی بچانے والے اس علاج کو جلد از جلد نافذ کریں۔‘
وسیع تر مشاورت کے لیے اس سائنسی جائزے کو حکومت نے کمیشن کیا تھا۔
ایک ترجمان نے بتایا کہ ’مائٹوكانڈريا کے عطیے سے مائٹوکانڈریا کی شدید خرابی میں مبتلا خواتین کو بھی بغیر تکلیف دہ جینیاتی خرابی کے بچہ پیدا کرنے کا موقع ملے گا۔‘
پروگریس ایجوکیشنل ٹرسٹ کی ڈائرکٹر سارا نورکروس نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس تکنیک سے متعلق قانون کو منظوری دے تاکہ اس قسم کی بیماریوں سے متاثر خاندانوں کو جلد از جلد فوائد حاصل ہوں۔







