ورلڈ کپ:’گرم موسم یورپی ٹیموں کے لیے بری خبر‘

،تصویر کا ذریعہg
ماہرینِ ماحولیات کا خیال ہے کہ برازیل میں فٹبال ورلڈ کپ کے دوران گرم موسم یورپی ممالک کی ٹیموں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف ریڈنگ کے محققین کا کہنا ہے کہ اس بات کے 60 فیصد امکانات ہیں کہ ورلڈ کپ کے دوران ’ایل نینو‘ برازیل کو متاثر کرے گا۔
’ایل نینو‘ ایسا موسمیاتی نظام ہے جو ہر دو سے پانچ برس کے بعد پیدا ہوتا ہے اور اس کا تعلق وسطی اور مشرقی بحرِ الکاہل میں سمندر کے بڑھتے درجۂ حرارت سے ہوتا ہے۔
سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ یہ پیچیدہ موسمیاتی نظام جون اور جولائی کے مہینوں میں برازیل میں شدید خشک اور گرم موسم کی وجہ بنے گا۔
سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ برازیل میں خشک اور گرم موسم کی پیشنگوئی برطانوی کھلاڑیوں کے لیے اچھی خبر نہیں جو برطانوی موسمِ گرما میں بارش اور نمی کے عادی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSPL
محققین کی ٹیم کے رکن ڈاکٹر نک کلنگمن کا کہنا ہے کہ ’اگر ایسا ہوتا ہے تو برازیل میں جون اور جولائی کا موسم کھلاڑیوں کے لیے بےچینی کا باعث ہوگا۔‘
برطانیہ سے تعلق رکھنے والی ٹیمیں روایتی طور پر اس قسم کے موسمی حالات میں اپنا بہترین کھیل پیش کرنے میں ناکام رہی ہیں اور 1994 میں میکسیکو میں فٹبال ورلڈ کپ کے دوران آئرلینڈ کی کارکردگی اس کا ثبوت ہے۔
انگلش فٹبال ٹیم 2014 کے ورلڈ کپ میں اپنا پہلا میچ مناس میں اٹلی کے خلاف کھیلے گی اور شمالی برازیل میں ہونے کی وجہ سے وہاں سخت گرمی کا امکان نہیں تاہم دسمبر 2013 میں ورلڈ کپ ڈراز کے بعد انگلش کوچ روئے ہاجسن نے اس پر بھی تشویش ظاہر کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر نک کلنگمن کے مطابق ورلڈ کپ میں’اپنا دوسرا اور تیسرا میچ کھیلنے کے لیے انگلش ٹیم کو جنوبی اور مشرقی برازیل کا رخ کرنا ہوگا اور ان علاقوں کے گرم موسم سے متاثر ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔‘
انھوں نے اندازہ ظاہر کیا کہ ایل نینو کی وجہ سے ریو اور گردونواح کے درجۂ حرارت میں بھی اوسطاً ایک ڈگری سنٹی گریڈ کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر کلنگمن نے کہا کہ ’اگرچہ اوسطاً ایک ڈگری کا اضافہ معمولی لگتا ہے لیکن ہر روز یہ اضافہ صرف ایک ہی ڈگری کا نہیں ہوگا۔‘







