خلائی جہاز روزیٹا نے دمدار ستاروں کا تعاقب شروع کردیا

یہ مشن یورپی خلائی ایجنسی (ایسا) کا اب تک کا سب سے پیچیدہ مشن ہے جسے سنہ 2004 میں لانچ کیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP ESA C.CARREAU

،تصویر کا کیپشنیہ مشن یورپی خلائی ایجنسی (ایسا) کا اب تک کا سب سے پیچیدہ مشن ہے جسے سنہ 2004 میں لانچ کیا گیا تھا

یورپ کا خلائی جہاز روزیٹا جسے دمدار ستاروں کے تعاقب کے لیے روانہ کیا گیا تھا اس نے اپنے ہدف کا تعاقب شروع کر دیا ہے۔

بدھ کو کنٹرول روم نے اس خلائی جہاز پر موجود اس مشین کو روشن کردیا جو خلا میں بکھرے برف اور گرد کے گولوں کی رفتار کا مقابلہ کرسکیں اور ان کا تعاقب کر سکیں۔

گذشتہ روز 45 منٹ تک جلنے والا تھرسٹر مجوزہ دس اقدامات میں سے ایک تھا اور یہ سارے اقدامات چھ اگست سے پہلے پہلے مکمل کر لیے جائیں گے کیونکہ اس کے بعد روزیٹا کو مدار میں دمدار ستارے 67 پی/ چریوموو گراسیمنکو کے پاس چھوڑ دیا جائے گا۔

اس کے بعد وہ تھرسٹر اس کا جائزہ لے گا اور اس پر اپنی خلائی گاڑی اتار دے گا۔

دمدار ستارے کے ساتھ یہ ربط نومبر کے وسط کے لیے طے کیا گیا ہے۔

روزیٹا اور 67 پی فی الحال زمین سے 53 کروڑ 80 لاکھ کلو میٹر کے فاصلے پر ہیں اور یہ خلائی گاڑی دمدار ستارے سے قدرے آگے ہے۔

دونوں کے درمیان کا فاصلہ روزانہ کم ہو رہا ہے تاہم اب بھی دونوں کے درمیان 18 لاکھ کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔

روزیٹا کی رفتار نسبتاً کم ہو کر 1 ایم فی سیکنڈ رہ جائے گی اور دونوں کے درمیان 100 کلومیٹر سے کم کا فاصلہ ہی رہ جائے گا۔

روزیٹا اور 67 پی فی الحال زمین سے 53 کروڑ 80 لاکھ کلو میٹر کے فاصلے پر ہیں اور یہ خلائي گاڑی دمدار ستارے سے قدرے آگے ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنروزیٹا اور 67 پی فی الحال زمین سے 53 کروڑ 80 لاکھ کلو میٹر کے فاصلے پر ہیں اور یہ خلائي گاڑی دمدار ستارے سے قدرے آگے ہے

یہ مشن یورپی خلائی ایجنسی (ایسا) کا اب تک کا سب سے پیچیدہ مشن ہے۔ اسے سنہ 2004 میں لانچ کیا گیا تھا اور اس نے ابھی تک اپنے ہدف کا چکر لگایا ہے۔

اس نے اب تک انتہائی دلچسپ سفر طے کیا ہے خاص طور پر جب یہ دو شہابیوں راک سٹینز اور لوٹیٹیا کے پاس سے بالترتیب سنہ 2008 اور سنہ 2010 میں گزرا۔

اس سے قبل سنہ 2011 میں روزیٹا کے تمام نظام بند کر دیے گئے تھے جب یہ اپنے مقررہ راستے پر سورج سے اتنا دور ہو گیا تھا کہ سورج کی روشنی سے توانائی پیدا کرنے والے اس کے سیلز نے سورج سے دوری کی وجہ سے توانائی پیدا کرنی انتہائی کم کر دی تھی۔

تین ٹانگوں والے روبوٹ ’فلی‘ کو نومبر میں دمدار ستارے پر اتارا جائے گا جو ایک انتہائی حیران کن اور ڈرامائی عمل ہو گا۔

روزیٹا کے روبوٹ کا مقصد دمدار ستارے پر سورج کی طرف سفر میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ہے۔

دمدار ستارہ جسے ’ڈرٹی سنو بال‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے، نظامِ شمسی کے وجود میں آنے کے وقت کے اجزا پر مشتمل ستارہ ہے اور اس سے حاصل ہونے والی معلومات سے ماہرین چار اعشاریہ چھ ارب سال پہلے کے اجزا کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔