ترکی:’ٹوئٹر پر پابندی قبول نہیں‘

،تصویر کا ذریعہ

ترکی میں ٹوئٹر پر پابندی ہے لیکن اس کے باوجود ملک کے صدر اور کئی دیگر سینیئر سیاستدانوں سمیت ہزارہا افراد ٹویٹ کر رہے ہیں۔

جمعرات کی رات ترکی میں ٹوئٹر کے صارفین کو اچانک اس پیغام کا سامنا کرنا پڑ گیا کہ ٹوئٹر کے استعمال پر ’حفاظتی اقدامات‘ اٹھائےگئے ہیں۔ اس کے بعد سے لوگوں نے اس حکومتی پابندی کی پرواہ کیے بغیر اپنی ٹویٹس جاری رکھنے کے کئی طریقے ڈھونڈ لیے اور دوبارہ ٹویٹ کرنا شروع کر دیا۔

ترکی کے صدر عبداللہ گل نے ملک میں مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پابندی کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ فیصلہ جلد تبدیل کر دیا جائے گا۔

ملک کے وزیرِاعظم رجب طیب اردوغان کی جانب سے ٹوئٹر پر پابندی کی بات سامنے آنے کے بعد جمعرات کو ٹوئٹر کے ترک صارفین نے اطلاع دی تھی کہ انھیں اس ویب سائٹ تک رسائی نہیں ہے۔

ترکی میں ٹوئٹر انتہائی مقبول ویب سائٹ ہے اور ملک میں اس کے کم سے کم ایک کروڑ صارفین ہیں۔

بندش کے باوجود متعدد صارف دیگر ذرائع سے اس ویب سائٹ کو استعمال کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

ترک صدر نے اس پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ ’یہ بندش ناقابلِ قبول ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مکمل طور پر بند کیا جانا کسی طرح قبول نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر عدالت سمجھتی ہے کہ کچھ انٹرنیٹ صفحات پرائیویسی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں تو انھیں انفرادی طور پر بلاک کیا جانا چاہیے۔

امید ہے یہ فیصلہ زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہےگا:عبداللہ گل

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنامید ہے یہ فیصلہ زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہےگا:عبداللہ گل

ترک وزیراعظم اردوغان اس بات پر ناراض ہیں کہ ترک عوام نے ٹوئٹر کی مدد سے ان کے قریبی حلقوں میں شامل افراد پر بدعنوانی کے الزامات لگائے۔

جمعرات کو وزیرِ اعظم رجب طیب اردوغان نے کہا تھا کہ ’مجھے اس کی قطعی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ بین الاقوامی برداری کیا کہتی ہے۔ اب سب لوگ جمہوریہ ترکی کی طاقت دیکھیں گے۔‘

ترک صدر عبداللہ نے جمعے کو ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’یہ تکنیکی طور پر ممکن نہیں کہ ان پلیٹ فارمز تک رسائی بند کر دی جائے جو ساری دنیا میں استعمال کیے جاتے ہیں۔‘ انھوں نے امید ظاہر کی یہ فیصلہ زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہےگا۔

یورپی یونین نے اس قدم پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور یورپی یونین کی کمشنر سٹیفن فوئلے نے کہا ہے کہ وہ ترک وزیراعظم کی آزادئ اظہار کی پالیسی پر ’متوشش‘ ہیں۔

ترک وکلا کی ایسوسی ایشن نے ایک عدالت سے اس بندش کے خاتمے کا حکم دینے کی درخواست دی ہے جس میں اسے غیرآئینی اور حقوقِ انسانی کے ترک اور یوریپی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

ترکی میں کم سے کم ایک کروڑ ٹوئٹر صارفین ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنترکی میں کم سے کم ایک کروڑ ٹوئٹر صارفین ہیں

پابندی کے باوجود ٹوئٹر تک رسائی پانے میں کامیاب رہنے والے ترک صارفین نے بھی اس بندش پر شدید غصے کا اظہار کیا ہے۔

ایک صارف کا کہنا تھا کہ ’میں دیکھ رہا ہوں کہ سبھی یہاں موجود ہیں۔ سو اس بندش کا توڑ 12 گھنٹے میں ہی کر لیا گیا ہے۔‘

خیال رہے کہ جمعے کو ترکی میں جب بعض صارفین نے ٹوئٹر کی ویب سائٹ کھولنے کی کوشش کی تو انہیں ترکی میں مواصلات کے نگراں ادارے کا ایک پیغام کے جانب پلٹا دیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ اس ویب سائٹ پر ’حفاظتی اقدامات‘ لاگو ہوتے ہیں۔

سنہ 2012 میں ترکی نے یوٹیوب پر دو سال سے عائد پابندی ختم کی تھی۔ یوٹیوب پر سابق ترک رہنما مصطفی کمال اتاترک کے خلاف تضحیک آمیز ویڈیو کی وجہ سے پابندی عائد کی گئی تھی۔