نیند کی کمی سے دماغی خلیے ضائع

یہ اس بات کا پہلا سائنسی ثبوت ہے کہ نیند میں کمی سے دماغی خلیے ختم ہو جاتے ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنیہ اس بات کا پہلا سائنسی ثبوت ہے کہ نیند میں کمی سے دماغی خلیے ختم ہو جاتے ہیں

نیند کی کمی کے دماغ پر برے اثرات سے ہر کوئی واقف ہے، لیکن ایک نئی تحقیق کے مطابق نیند میں کمی کے اثرات ہمارے اندازے سے زیادہ ہیں کیونکہ اس سے دماغ کے خلیے ہمیشہ کے لیے تباہ ہو سکتے ہیں۔

دماغی سائنس کے جریدے ’جرنل آف نیورو سائنس‘ میں شائع ہونی والی تحقیق میں کہاگیا ہے کہ ایک تجربے میں چوہوں کو زیاہ دیر تک جگائے رکھے جانے سے ان کے 25 فیصد دماغی خلیے مرگئے۔

امریکی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر انسانوں پر بھی نیند ضائع ہونے کے ایسے ہی اثرات ہوتے ہیں تو شاید کھوئی ہوئی نیند کو پورا کرنے کا کوئی فائدہ نہ ہو۔

ان سائنسدانوں کا خیال ہے کہ شاید ہم ایک دن کوئی ایسی دوا بنانے میں کامیاب ہو جائیں جو دماغی خلیوں کو نیند کی کمی کے منفی اثرات سے محفوظ رکھ سکے۔

جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کی بنیاد لیباٹری میں چوہوں پر کیے جانے والے تجربات ہیں۔ ان تجربات میں چوہوں کو اسی طرز پر نیند کی کمی کا شکار کیا گیا جس کا شکار جدید دور میں رات کی شفٹ یا دیر تک دفتر میں کام کرنے سے انسان خو ہو رہے ہیں۔

امریکہ کی یونیورسٹی آف پینسلوینیا کے شعبہ طب نے چوہوں کے دماغ کے ان خلیوں کا مطالعہ کیا جو دماغ کو چاک و چوبند رکھتے ہیں۔ چوہوں کو کئی دنوں تک نیند کی کمی کے ایسے ہی تجربات سے گزارا گیا جس سے شفٹ میں کام کرنے والے انسان گزرتے ہیں، یعنی ہفتے میں تین رات کی شفٹیں جس میں آپ چوبیس گھنٹوں میں صرف چار پانچ گھنٹے سوتے ہیں۔ ان تجربات میں دیکھا گیا کہ چوہوں کے دماغ کے پچیس فیصد خلیے ختم ہو گئے۔

تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ اس بات کا پہلا سائنسی ثبوت ہے کہ نیند میں کمی سے دماغی خلیے ختم ہو جاتے ہیں، تاہم یہ جاننے کے لیے کہ آیا انسانوں پر بھی نیند کی کمی کے ایسے ہی اثرات ہوتے ہیں، ہمیں مذید تجربات کرنے کی ضرورت ہے۔

نیند اور دماغی امراض کے ایک مرکز کی پروفیسر سگرڈ ویسی نے اس نئی تحقیق پر بات کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا: ’ اب ہمارے پاس اس بات کا ثبوت آ گیا ہے کہ نیند کی کمی جسم پر ایسے زخم لگا سکتی ہے جن کا کوئی علاج نہیں، لیکن چونکہ کبھی مندمل نہ ہو سکنے والے زخموں کا ثبوت ایک چھوٹے سے جانور میں دیکھنے میں آیاہے، اس لیے اب ہمیں انسانوں پر نیند کی کمی کے اثرات کا مطالعہ کرنے کے لیے بڑی باریک بینی کی ضرورت ہے۔‘

چوہوں کو اسی طرح شفٹوں میں سونے دیا گیا جیسے آج کل بہت سے لوگ کرتے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنچوہوں کو اسی طرح شفٹوں میں سونے دیا گیا جیسے آج کل بہت سے لوگ کرتے ہیں

پروفیسر سگرڈ ویسی کے مطابق ہمارا اگلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ ہم ان مردہ انسانوں کے دماغوں کا مطالعہ کریں جو زندگی میں شفٹوں میں کام کرتے رہے ہوں۔

اس خیال کے برعکس یونیورسٹی آف مانچسٹر کے پروفیسر ہیُو پگِنز کہتے ہیں کہ ان تجربات سے صرف چوہوں پر نیند کی کمی کے منفی اثرات سامنے آئے ہیں، ہو سکتا ہے جب انسانوں پر تجربات کیے جائیں تو یہ نتائج بالکل غلط ثابت ہوں۔

’انسانی دماغ پر منفی اثرات کے مطالعے کے لیے ہمیں مذید بہت زیادہ تحقیق کی ضرورت ہے، تاہم حالیہ تحقیق میں ثابت ہونے والی بات ماضی میں صحت مندانہ زندگی پر کی جانے والی تحقیقات سے مطابقت رکھتی ہے۔‘