’ویب کے تحفظ کے لیے ایک میگنا کارٹا چاہیے‘

سر ٹِم برنرز لی نے بی بی سی کے ایک پروگرام میں انرنیٹ کی آزادی کا موازنہ انسانی حقوق سے کیا
،تصویر کا کیپشنسر ٹِم برنرز لی نے بی بی سی کے ایک پروگرام میں انرنیٹ کی آزادی کا موازنہ انسانی حقوق سے کیا

عالمی ویب کے موجد نے ورلڈ وائڈ ویب کی پچیس سال مکمل ہونے پر ویب کے صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ’میگنا کارٹا‘ کی طرز پر ایک بل آف رائٹس کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

سر ٹِم برنرز لی نے بی بی سی کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا اس کا موازنہ انسانی حقوق سے کیا۔

سر برنرز لی امریکی خفیہ اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشا کیے جانے والے رازوں کے بعد سے حکومتوں کی جانب سے عام شہریوں کی جاسوسی کے بڑے ناقد ہیں۔

سر ٹِم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جاسوسی کے خلاف اقدامات کریں اور احتجاج کریں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’آن لائن کمیونٹی ایک دوراہے پر آن پہنچی ہے جس میں ہمارے سامنے کرنے کے لیے بڑے فیصلے ہیں۔ ہمارے سامنے دو راستے ہیں جن پر ہم چل سکتے ہیں کیا ہم اس راستے پر چلنا ہے اور حکومتوں کو کھلی چھوٹ دینی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کنٹرول کریں زیادہ سے زیادہ جاسوسی کریں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’کیا ہم روایات قائم کریں گے؟ کیا ہم عالمی ویب کا ایک میگنا کارٹا ترتیب دیں گے اور کہیں گے کہ حقیقت میں اب یہ بہت اہم ہے اور بہت زیادہ ہماری زندگیوں کا حصہ ہے کہ یہ انسانی حقوق کی سطح تک پہنچتا ہے۔‘

سر ٹِم برنرز نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ کو ایک ’غیر جانبدار‘ میڈیم ہونا چاہیے جسے اس خوف یا خطرے کے بغیر استعمال کیا جا سکے کہ ’کوئی ہماری نگرانی کر رہا ہے۔‘

ورلڈ وائڈ ویب کے موجد نے صارفین پر زور دیا کہ وہ جاسوسی کے خلاف باخبر رہیں اور کہا کہ ’دنیا کے لوگوں مستقلاً باخبر رہنا ہو گا مسلسل اس بارے میں علم رکھنا ہو گا۔ مسلسل اپنے عمل، احتجاج سے یہ ثابت کرنا ہو گا کہ ایسا نا ہو۔‘

سر ٹِم اس سے قبل خبردار کر چکے ہیں کہ جاسوسی ویب کی جمہوری فطرت کے لیے خطرہ ہے اور انہوں نے ایڈورڈ سنوڈن کے حق میں آواز اٹھائی اور کہا کہ ان کا ’اقدام مفادِ عامہ کے لیے تھا۔‘

سر ٹِم اس سے قبل خبردار کر چکے ہیں کہ جاسوسی ویب کی جمہوری فطرت کے لیے خطرہ ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسر ٹِم اس سے قبل خبردار کر چکے ہیں کہ جاسوسی ویب کی جمہوری فطرت کے لیے خطرہ ہے

پچیس سال قبل یہ خیال کے عالمی ویب لوگوں کی زندگیوں میں اتنی اہمیت اختیار کر جائے گا حماقت لگتا تھا مگر انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ویب انسانیت کو منسلک رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھے ان لوگوں سے کچھ زیادہ ہمدردی نہیں ہے جو کہتے ہیں کہ ویب پر بہت زیادہ خرافات ہیں۔ ٹھیک ہے اگر بہت زیادہ خرافات ہیں تو آپ مت پڑھیں۔ کچھ اور پڑھ لیں۔‘

سر ٹِم برنرز کی فاؤنڈیشن نے ’دی ویب اینڈ وٹ وی وانٹ‘ یعنی ویب اور ہم کیا چاہتے ہیں کے نام سے ایک مہم شروع کی ہے جو ویب کے پچیس سال پورے ہونے پر صارفین کے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی ہے۔