نئی تحقیق: نابینا آنکھ میں بصارت بحال کر دی گئی

،تصویر کا ذریعہSPL
جانوروں پر کی جانے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ایک دوا کی مدد سے نابینا آنکھ میں دوبارہ دیکھنے کی صلاحیت لوٹ آئی ہے۔
آنکھ کے پردۂ بصارت (ریٹنا) میں موجود راڈ اور کون روشنی پڑنے سے متحرک ہو جاتے ہیں اور دماغ میں تصویر بن جاتی ہے۔ لیکن بعض بیماریوں سے یہ حصے تباہ ہو سکتے ہیں۔
سائنسی جریدے نیوران میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ایک کیمیائی جز آنکھ کو ازسرِ نو روشنی دیکھنے کی صلاحیت سے بہرہ ور کر دیتا ہے۔
<link type="page"><caption> سٹیم سیل سے بصارت کی واپسی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2010/11/101122_stem_cells_eyesight_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت عمدہ تصور ہے جس سے انسانوں میں علاج وضع کیا جا سکتا ہے، تاہم اس سلسلے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
آنکھ مختلف تہوں پر مشتمل ہوتی ہے، جن میں راڈ اور کونز شامل ہیں۔ دوسری تہیں راڈز اور کونز کو زندہ رکھنے کے علاوہ روشنی پڑنے کے ردِ عمل میں بجلی کے سگنل پیدا کر کے انھیں دماغ تک پہنچاتی ہیں۔
امریکہ کے شہر برکلی میں واقع یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے تحقیق کاروں نے آنکھ میں ایک قسم کا اعصابی خلیہ دریافت کیا، جسے انھوں نے ریٹنل گینگلیان سیل کا نام دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد انھوں نے ایک کیمیائی جزو ڈی نیک (Denaq) تیار کیا، جو روشنی پڑنے پر اپنی شکل تبدیل کر دیتا ہے۔ شکل کی اس تبدیلی سے بجلی کا سگنل پیدا ہوتا ہے جو دماغ تک بھیج دیا جاتا ہے۔
تجربات سے معلوم ہوا کہ آنکھوں میں ڈی نیک داخل کرنے سے اندھے چوہوں کی بینائی کسی حد تک بحال ہو گئی۔ ان کے رویے میں تبدیلی دیکھی گئی، تاہم یہ واضح نہیں کہ چوہے کس حد تک دیکھ سکتے ہیں۔
اگرچہ دوا کے اثرات جلد ہی زائل ہو گئے، لیکن چوہے اس کے ایک ہفتہ بعد تک بھی روشنی شناخت کر سکتے تھے۔
ایک تحقیق کار ڈاکٹر رچرڈ کریمر نے کہا: ’ڈی نیک کی طویل مدت افادیت اور مضر اثرات جاننے کے لیے کسی بڑے ممالیہ جانور پر مزید تجربات کی ضرورت ہے۔
’اس میں مزید کئی برس صرف ہوں گے، لیکن یہ دوا محفوظ ثابت ہوئی تو انجامِ کار یہ نابینا انسانوں میں بینائی بحال کرنے میں مفید ہو سکتی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ یہ بینائی کس حد تک بحال کر سکتی ہے۔‘
امید کی جا رہی ہے کہ ایک دن یہ دوا پردۂ بصارت پر داغ پڑ جانے اور معمر افراد میں میکیولر ڈی جنریشن جیسی بیماریوں کے علاج میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔
سائنس دان ایک الیکٹرونک عینک تیار کرنے کا بھی سوچ رہے ہیں جس کے ذریعے پردۂ بصارت پر مخصوص شدت کی روشنی کی شعاعیں ڈالی جائیں گی، جس سے دوا کی تاثیر مزید بہتر ہو جائے گی۔
یونیورسٹی کالج آف لندن کے شعبۂ چشم کی پروفیسر ایسٹرڈ لم نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ بہت دلچسپ تصور ہے کہ باقی بچ جانے والے خلیوں کو متحرک کیا جائے، تاہم اس تحقیق کے ثمرات انسانوں تک پہنچانے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔‘
اس تحقیق کے علاوہ نابینا افراد کی بینائی بحال کرنے کے لیے کئی اور قسم کے طریقے بھی وضع کیے جا رہے ہیں، جن میں آنکھ کے اندر سٹیم سیل کا پیوند لگانا اور ڈی این اے میں رد و بدل سے جینیاتی خرابیوں کو درست کرنا شامل ہیں۔







