لبلبے کے کینسر کا علاج ایک ہفتے میں

برطانیہ میں سائنس دانوں نے لبلبے کے مہلک کینسر کا نیا علاج دریافت کیا ہے جو فی الحال چوہوں پر آزمایا جا رہا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق کینسر کی بیماری کو نئی دوا کے ذریعے ایک ہفتے سے بھی کم مدت میں مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے، اسی کے ساتھ یہ دوا دوسری اقسام کی رسولیوں کے علاج میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

<link type="page"><caption> سرطان کی تشخیص سانس کے ذریعے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2012/12/121205_breath_cancer_detection_sa.shtml" platform="highweb"/></link>

برطانوی اخبار میٹرو کے مطابق کیمبرج یونیورسٹی کے سائنس دان تیار کی جانے والی نئی دوا کے تجربات رواں برس انسانوں پر بھی کریں گے اور اگر انسانوں پر تجربات کامیاب ہوئے تو یہ دوا دس سال کے اندر انسانی استعمال کے لیے دستیاب ہو سکتی ہے۔

اس دوا کے چوہوں پر کیے جانے والے تجربات کامیاب ثابت ہوئے ہیں جس میں متاثرہ خلیوں کے گرد حفاظتی حصار کو ختم ہو گئے۔ تجربے میں بظاہر چوہوں میں تمام کینسر چھ دن کے اندر اندر ختم ہو گئے جب کہ لبلبے کے سرطان کو مکمل طور پر ختم کرنے میں ایسا پہلا بار ممکن ہوا ہے۔

یہ دوا کی chemokine protein کی کثیف تہہ کو ختم کر دیتی ہے جو لبلبے کے سرطانی خلیوں کے گرد ایک حفاظتی حصار قائم کر لیتی ہے جس کی وجہ سے جسم کے مدافعتی نظام کے ٹی سیلز سرطان کو ختم نہیں کر پاتے۔ نئی دوا کینسر کے علاج میں مددگار ٹی سیلز کی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے۔

محققین کی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ڈگلس فیرون کے مطابق ’یہ دوا جسم کو سرطان کے حملے سے بچانے کے قابل بناتی ہے اور اس طریقے سے ٹھوس رسولیوں کے طریقۂ علاج میں بہتری کے بہت زیادہ امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔‘

یہ علاج صرف لبلبے کے کینسر تک محدود نہیں ہے اور یہ دوسرے اقسام کے سرطانوں میں بھی موثر ثابت ہو سکتا ہے جس میں پھیپھڑوں کا کینسر بھی شامل ہے۔

مشہور امریکی کمپنی اپیل کے بانی سٹیو جابز اور اداکار پیٹرک سوازی کی موت بھی لبلبے کے سرطان کی وجہ سے ہوئی تھی۔ برطانیہ میں سالانہ سات ہزار نو سو افراد اس سرطان کی وجہ سے مارے جاتے ہیں۔

لبلبے کے سرطان کی تشخص ہونے کے بعد پانچ سال بعد صرف چار فیصد ہی زندہ بچ پاتے ہیں۔ لبلبے کا سرطان کی ابتدا میں تشخیص مشکل سے ہو پاتی ہے اور اس وجہ سے اکثر اوقات بعد میں اس کا علاج ممکن نہیں ہوتا۔

کمیبرج یونیورسٹی کے کینسر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے محققین کو یقین ہے کہ نئی دوا ’AMD3100‘ یا Plerixafor کی مدد سے سرطان کی تاخیر سے تشخیص کی صورت میں علاج ممکن ہو سکے گا۔

برطانیہ میں لبلبے کے سرطان کے ادارے کے چیف ایگزیکیٹو ایلکس فورڈ کے مطابق’ یہ تحقیق ایک خوش کن پیش رفت ہے۔‘