شمسی طوفانوں کی پیش گوئی کا نظام جلد

برطانیہ کے محکمۂ موسمیات نے عنقریب خلا کے موسم کی پیشگوئی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ چوبیس گھنٹوں کی اِس پیشگوئی کے ذریعے شمسی طوفانوں پر نظر رکھی جائے گی جو کرۂ ارض کےمواصلاتی نظام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

خلا کا موسم شمسی ذرات پر مشتمل ہوتا ہے جن میں جمع توانائی شمسی طوفان پیدا کرتی ہے۔ سورج کی سطح پر ہر وقت شعلے اٹھتے رہتے ہیں۔ جب اِن میں انتہائی زیادہ توانائی جمع ہو جاتی ہے تو یہ سورج سے چھوٹ کر خلا میں بکھرتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اِن ذرات پر مشتمل گیس کی مقدار اربوں ٹن اور اِن کی رفتار دسیوں لاکھ کلو میٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے۔

ہر گیارہ سال بعد سورج پر شعلے پیدا ہونے کا عمل عروج پر پہنچتا ہے۔ یہی وہ دورانیہ ہوتا ہے جب شمسی طوفان زیادہ پیدا ہوتے ہیں۔

ستمبر 1859 کا شمسی طوفان انسانی تاریخ کا بدترین طوفان تھا جس سے جنگلوں میں آگ لگ گئی تھی
،تصویر کا کیپشنستمبر 1859 کا شمسی طوفان انسانی تاریخ کا بدترین طوفان تھا جس سے جنگلوں میں آگ لگ گئی تھی

خلا میں شمسی ذرات کے اتار چڑھاؤ کے مطالعے کے لیے ہی برطانیہ کے محکمۂ موسمیات نے اِن کی پیشگوئی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیونکہ خلا میں موجود مصنوعی سیارے کرۂ ارض کے مواصلاتی نظام کو چلاتے ہیں۔ وہ ہِلیں تو کرۂ ارض کے موبائل فون، ٹی وی، ریڈیو سب میں خلل پڑ سکتا ہے۔ بجلی کے نظام بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ غرض ہر وہ شے، جو کرۂ ارض کے مقناطیسی نظام کی محتاج ہے، اُسے سورج سے آنے والے ذرات کا طاقتور طوفان سبوتاژ کر سکتا ہے۔

1994 میں آنے والے شمسی طوفان نے دو مصنوعی سیاروں میں خرابیاں پیدا کر دی تھیں اور کینیڈا میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن بند ہو گئے تھے۔ مارچ 1989 کے شمسی طوفان نے بھی کینیڈا کے وسیع علاقے میں بجلی کی ترسیل میں خلل ڈال دیا تھا۔ لیکن ستمبر 1859 کا شمسی طوفان انسانی تاریخ کی بدترین یادوں میں سے ایک ہے۔ کارِنگٹن ایونٹ کہلانے والے اِس شمسی طوفان نے ٹیلی گراف کا نظام درہم برہم کر دیا اور یورپ اور شمالی امریکہ کے جنگلوں میں آگ لگا دی۔

اُس وقت انسانیت کا انحصار ٹیکنالوجی پر اتنا نہیں تھا جتنا دورِ حاضر میں ہے۔ امریکہ کی نیشنل اکیڈمی آف سائنس کے 2008 کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایک طاقتور شمسی طوفان کرۂ ارض کے مواصلاتی نظام کو دو کھرب ڈالر کا نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اِس کے علاوہ دنیا بھر میں انتشار پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔

برطانیہ کے محکمۂ موسمیات کے مطابق آئندہ چند ماہ میں خلائی موسم کی پیشگوئی کا آغاز کر دیا جائے گا۔ ایک ایسے وقت میں جب سورج کی حدت گیارہویں سال کے عروج پر ہے اور خدشات ہیں کہ یہ حدت نئے سال میں کسی بھی وقت شمسی طوفان پیدا کر سکتی ہے۔