سورج سے شہاب ثاقب کی قربت، نئي معلومات

ایک دمدار ستارے کے سورج کے قریب آنے سے سائنس دانوں کو سورج کی اس پرت یا ماحول کو دیکھنے کا موقع ملا ہے جہاں اب تک کوئی خلائي گاڑی نہیں پہنچ سکی تھی۔
دو ہزار گيارہ میں ’لو جوائے‘ نامی شہاب ثاقب سورج کی بنفشی پرت کے علاقے میں تیز رفتاری سے داخل ہوا۔ اس علاقے کو سورج کے ارد گرد گیسوں والے غلاف کے لیے جانا جاتا ہے۔
ٹیلی سکوپ سے حاصل کی گئی تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح زبردست مقناطیسی فیلڈ نے ستارے کی دم کو اپنی جانب کھینچا۔ اس سے سائنس دان پہلی بار اس مقناطیسی طاقت کے متعلق خاکہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔
اس سے متعلق معلومات کو سائنس کے جریدے میں شائع کیا گيا ہے۔
کیلیفورنیا میں ’لوک ہیڈ مارٹن ایڈوانس ٹیکنالوجی سینٹر‘ نامی ادارے کے ڈاکٹر کاریل شرجیور کا کہنا ہے ’یہ شہاب ثاقب سورج کے پاس والے اس ماحول سے گزرتا ہے جس کا حقیقت میں ہم مشاہدہ نہیں کر سکتے۔‘
ان کا کہنا ہے ’ہم وہاں اس لیے نہیں جا سکتے کیونکہ حرارت کی شدت سے ہماری سیٹلائٹ پگھل جائے گی۔ ہم اسے اس لیے نہیں دیکھ سکتے کیونکہ وہاں سے روشنی کم ہی آتی ہے۔‘
’لیکن لو جوائے دمدار ستارے نے ہمیں سورج کے ماحول کے اس حصے اور اس مقناطیسی علاقے تک رسائی کا ذریعہ فراہم کیا جہاں تک رسائی کا کوئی دوسرا طریقہ نہیں۔‘
اس شہاب ثاقب کی دریافت آسٹریلوی سائنس دان لو جوائے نے کیی تھی اس لیے اس کا نام بھی لو جوائے رکھا گيا تھا۔ یہ دم دار ستارہ پندرہ دسمبر دو ہزار گيارہ کو سورج کے اس ماحول میں داخل ہوا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دم دار ستارہ جیسے ہی سورج کی گیس والی پرتوں کے آس پاس داخل ہوتا ہے اس کی چمک دمق بڑھ جاتی ہے۔
اس علاقے میں ستارے کو دسیوں لاکھ سیلسیز ڈگری کے درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ستارے کی دم بھی ہلنے لگتی ہے۔
سائنس دان یہ دیکھ کر حیرت میں تھے کہ جب لو جوائے ستارہ اس سطح کے قریب پہنچا تو برف اور غبار سے بنا یہ بال بکھرنے کے بجائے برقرار رہا اور سورج کی دوسری جانب ظاہر ہوا۔
لیکن دو روز بعد وہ اس سے جدا ہوگيا۔







