امریکہ: ’بن مانس کو قانونی طور پر انسان قرار دیا جائے‘

عدالت میں دائر شدہ درخواست میں بن مانسوں کے بارے میں سائنسدانوں کے حوالہ جات بھی دیے گئے ہیں
،تصویر کا کیپشنعدالت میں دائر شدہ درخواست میں بن مانسوں کے بارے میں سائنسدانوں کے حوالہ جات بھی دیے گئے ہیں

امریکہ میں جانوروں کے حقوق کے لیے سرگرم ایک تنظیم نے نیویارک کی ایک عدالت سے ایک چمپینزی کو قانونی طور پر انسان کے برابر قرار دینے کی درخواست کی ہے۔

یہ اپنی نوعیت کی پہلی ایسی درخواست کہی جا رہی ہے۔

نان ہیومن رائٹس پراجیکٹ نامی تنظیم چاہتی ہے کہ ٹامی نامی چمپینزی یا بن مانس کو ’قانونی طور پر انسان‘ قرار دیا جائے جس سے اسے ’اپنے جسم کے استعمال کی بنیادی آزادی‘ مل سکے گی۔

تنظیم نے پیر کو ٹامی کے لیے درخواست دائر کی تھی اور اب وہ رواں ہفتے تین دیگر بن مانسوں کے لیے بھی ایسی ہی درخواست دائر کرنے والی ہے۔

تنظیم ان چاروں بن مانسوں کی رہائی کی خواہشمند ہے۔ اس کے بانی سٹیون وائز نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ’ہم یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ بن مانس خودمختار ہیں یعنی کہ نہ صرف وہ خود فیصلہ کرنے کی قابلیت اور اپنے بارے میں آگاہی رکھتے ہیں بلکہ اپنی مرضی سے زندگی گزار سکتے ہیں۔‘

عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں سائنسدانوں کے حوالہ جات بھی دیے گئے ہیں۔

سٹیون وائز کے مطابق ’جب میں یہ ثابت کر لیں گے کہ بن مانس خودمختار ہوتے ہیں تو یہ انھیں قانونی طور پر انسان قرار دینے کے لیے کافی ہوگا اور کم از کم ان کے بنیادی حقوق انسانی حقوق کے تحت محفوظ ہو جائیں گے۔‘

تنظیم کے مطابق ٹامی کو نیویارک میں ایک گیراج میں رکھا گیا ہے جبکہ گیراج کے مالک پیٹرک لیوری کا کہنا ہے کہ ’ٹامی کا پنجرہ کشادہ ہے جس میں درجنوں کھلونے بھی ہیں۔‘

ان کے مطابق انھوں نے ٹامی کو جہاں سے حاصل کیا وہاں اس سے اچھا سلوک نہیں کیا جا رہا تھا اور وہ اسے جانوروں کے لیے مخصوص عمارت میں اس لیے نہیں بھجوا سکے کیونکہ وہاں جگہ کی قلت تھی۔

پیٹرک لیوری نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا: ’اگر وہ (نان ہیومن رائٹس پراجیکٹ) وہ جگہ دیکھ لیتے جہاں اس بن مانس نے اپنی زندگی کے ابتدائی 30 برس گزارے ہیں تو وہ آج اس جگہ کو دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سماتے جہاں وہ اب رہتا ہے۔‘

نان ہیومن رائٹس پراجیکٹ نے یہ درخواست حبسِ بےجا کے قانون کے تحت دائر کی ہے۔