’کاکروچ پر مظالم کے الزامات کی تردید‘

ناقدین کا کہنا ہے کہ کمپنی کا موقف ’حقیقت پر مبنی نہیں۔‘
،تصویر کا کیپشنناقدین کا کہنا ہے کہ کمپنی کا موقف ’حقیقت پر مبنی نہیں۔‘

کاکروچ پر نصب ہونے والے آلے کو تیار کرنے والی امریکی کمپنی نے حشرات پر مظالم ڈھانے کے الزامات کے خلاف اپنا دفاع کیا ہے۔

بیک یارڈ برینز نامی کمپنی نے روبوروچ نامی ایک ایسا چھوٹا الیکٹرانک آلہ تیار کیا ہے جسے کاکروچ کی پیٹ پر نصب کیا جاتا ہے اور ایک موبائل ایپ کے ذریعے اس کی نقل و حرکت کنٹرول کی جا سکتی ہے۔

کمپنی کی خاتون ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ آلہ جسے باقاعدہ طور پر سنیچر کو متعارف کرایا گیا ہے اور اس کا مقصد بچوں کی نیورو سائنس میں دلچسپی بڑھانا ہے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ کمپنی کا موقف ’حقیقت پر مبنی نہیں۔‘

کاکروچ پر آلہ نصب کرنے کے لیے پہلے اسے قابو کرنے کے لیے یخ بستہ پانی میں رکھا جاتا ہے اور پھر اس کے سر کے خول کے باہر والی تہہ کھرچی جاتی ہے اور تار لگانے کے لیے اس کے جسم میں سوراخ بھی کیا جاتا ہے۔

اس کے بعد یہ آلہ کاکروچ کے اوپر نصب کر دیا جاتا ہے اور صارف اس کی نقل و حرکت کو موبائل ایپ سے کنٹرول کر سکتا ہے۔

امریکی سائنسی ویب سائٹس نے ماہرِ حیوانات جونتن بالکومبے کے حوالے سے بتایا کہ آلہ نصب کرنے کے دوران کاکروچ کو جسمانی نقصان پہنچتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ’اگر یہ پتہ چلے کہ ایک استاد کے ایسے طلبا ہیں جو چیونٹیوں کو جلانے اور اس کے خلیے کو دیکھنے کے لیے محدب عدسے کا استعمال کرتے ہیں تو اس پر لوگوں کا کیا ردِعمل ہو گا۔‘