شہابیوں کے زمین سے ٹکرانے کے خطرات زیادہ

سائنس دانوں کہا ہے کہ اس سال کے اوائل میں روس میں جو شہابیہ گرا تھا اس قسم کے مزید شہابیوں کے زمین سے ٹکرانے کے امکانات پہلے سے قائم شدہ اندازوں سے کہیں زیادہ ہیں۔
سائنس جریدے نیچر میں شائع شدہ تحقیق کے مطابق روس کے چیليابنسك میں اس سال گرنے والے شہابیے کی جسامت کے پتھر حیرت انگیز کثرت سے زمین کی فضا سے ٹکراتے رہتے ہیں۔
چیليابنسك میں فروری میں گرنے والے 19 میٹر لمبے شہابیے کے دھماکے سے جتنی توانائی پیدا ہوئی تھی وہ پانچ لاکھ ٹن ٹی این ٹی کے برابر تھی۔ اس کے گرنے سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلی تھی اور 16 سو کے لگ بھگ افراد زخمی ہو گئے تھے۔
یہ شہابیہ چیليابنسك شہر سے ساڑھے 18 میل اوپر فضا ہی میں پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تھا اور شہر پر ان ٹکڑوں کی بارش ہوئی تھی۔
67،700 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے خلا سے زمین کی طرف آنے والے اس پتھر کے دھماکے سے ہزاروں کھڑکیاں اور دروازے تباہ ہو گئے تھے۔
سائنسدانوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس طرح کی بہت سی خلائی چٹانیں ایسے مداروں میں گھوم رہی ہیں جو انھیں بالآخر زمین کی طرف لے آتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے زیادہ تر واقعات کی خبر اس لیے سامنے نہیں آ پاتی کیونکہ یہ دھماکے یا تو سمندر پر یا بہت دور دراز کے علاقوں میں ہوتے ہیں۔
گذشتہ بیس سال کے اعداد و شمار کا مطالعہ کرنے کے بعد محققین نے معلوم کیا ہے کہ اس دوران 20 میٹر کے سائز والے 60 شہابیے زمین سے ٹكرائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے خبردار کرنے والے نظام کا قیام عمل میں آنا چاہیے تاکہ اس بات اندازہ لگایا جا سکے کہ شہابیے کب اور کہاں گرنے والے ہیں۔
ریسرچ ٹیم کے سربراہ سائنسدان پروفیسر پیٹر براؤن نے کہا: ’ہمیں اس طرح کا نظام تیار کرنا ہوگا جو مسلسل آسمان پر نظر رکھے، اس طرح کے شہابیوں کی خبر دے جو زمین سے ٹکرا سکتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر چیليابنسك کے معاملے میں چند دن یا ایک ہفتے پہلے خبر مل جاتی تو یہ خبر قیمتی ہو سکتی تھی، اگر اس سے کچھ اور فائدہ نہ ہوتا لیکن کم از کم لوگوں کو یہ خبر تو دے دی جاتی کہ وہ کھڑکیوں سے باہر نہ جھانکیں یا اس وقت باہر نہ جائیں۔‘







