’گھریلو کام ورزش کا نعم البدل نہیں‘

’گھریلو کام سے وہ فائدہ نہیں ہو سکتا جو جسمانی ورزش سے ہوتا‘
،تصویر کا کیپشن’گھریلو کام سے وہ فائدہ نہیں ہو سکتا جو جسمانی ورزش سے ہوتا‘

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ گھریلو کام کرنے میں اتنی توانائی صرف نہیں ہوتی کہ یہ ورزش کا نعم البدل ثابت ہو سکے۔

پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ گھریلو کام کرنے سے ایکج ہفتے میں کم از کم 150 منٹ کی تجویز کردہ لازمی ورزش کی ضرورت نہیں رہتی۔

یہ تحقیق بی ایم سی جریدے میں شائع ہوئی ہے جس میں ساڑھے چار ہزار بالغ افراد کا سروے کیا گیا ہے۔

سروے میں شامل افراد سے ان کی جسمانی سرگرمی، کھیل اور ورزش میں حصہ لینے، سگریٹ اور شراب نوشی کے حوالے سے تفصیلی انٹرویوز کیے گئے۔

ان سے خاص طور پر ان کے گھریلو کاموں کے بارے میں پوچھا گیا۔

سروے میں شامل افراد نے بتایا کہ ان کی جسمانی سرگرمی میں 36 فیصد گھریلو کام ہوتا ہے۔

لیکن جب محققین نے ان کے وزن اور قد کا تـجزیہ کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ جن افراد نے گھریلو کام کو ورزش کے طور پر لیا تو ان کا وزن ان افراد کے مقابلے میں زیادہ تھا جو کسی اور قسم کی سرگرمیاں اختیار کرتے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ کسی بھی جسمانی کام کا فائدہ اس وقت ہو سکتا ہے جب کام کے دوران سانس میں تیزی آئے اور دل کی دھڑکن تیز ہو جائے۔

برطانیہ کے ادارے نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) کی طرف سے جاری کردہ تجاویز میں بھی کہا گیا ہے کہ گھریلوں کام کرنے سے ہفتے میں ڈیڑھ سو منٹ کی تجویز کردہ لازمی ورزش کی ضرورت پوری نہیں ہوتی۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ کچھ نہ کرنے سے کچھ کرنا بہتر ہے
،تصویر کا کیپشنماہرین خبردار کرتے ہیں کہ کچھ نہ کرنے سے کچھ کرنا بہتر ہے

لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کچھ نہ کرنے سے کچھ کرنا بہتر ہے لیکن لوگوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ انھیں پھر بھی لازمی ورزش کرنے کی ضرورت ہے۔

اس مطالعے کی تحقیقی ٹیم اس نتیجے پر پہنچی کہ ’خواتین اور عمر رسیدہ افراد گھریلو کام کو ورزش کے طور پر لیتے ہیں۔ تاہم اس قسم کی سرگرمیاں غلط طور پر دبلا ہونے کے ساتھ جوڑی گئی ہیں۔گھریلو کام سے وہ فائدہ نہیں ہو سکتا جو جسمانی ورزش سے ہوتا ہے۔‘

السٹر یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی پروفیسر میری مرفی نے، جو اس تحقیق کی سربراہ بھی ہیں کہا ’گھریلوں کام ایک جسمانی سرگرمی ہے اور اصولی طور پر کوئی بھی جسمانی سرگرمی توانائی کو خرچ کرتی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’لیکن تحقیق سے ہمیں معلوم ہوا کہ گھریلو کام اور دبلا پن ایک دوسرے کے برعکس ہیں جس سے اندازہ ہوتا کہ لوگ یا تو گھریلو کام کرنے کو کوئی بہت بڑی جسمانی سرگرمی سمجھتے ہیں یا جتنا کام کرتے ہیں اس کی نسبت کھاتے بہت زیادہ ہیں۔‘