’امریکہ اور برطانیہ آن لائن انکرپشن توڑ سکتے ہیں‘

امریکہ اور برطانیہ کے انٹیلی جنس اداروں نے مبینہ طور پر انٹرنیٹ پر استعمال ہونے والی انکرپشن کا توڑ کر لیا ہے، جس کے بعد وہ لوگوں کے آن لائن بینکنگ، طبی ریکارڈ اور ای میل دیکھ سکتے ہیں۔

امریکی راز افشا کرنے والے ایڈورڈ سنوڈن کی دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ امریکی خفیہ ادارہ نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) اور برطانیہ کا ادارہ جی سی ایچ کیو آن لائن سکیورٹی پروٹوکول کو ہیک کر رہے ہیں۔

مقبول انٹرنیٹ ویب سائٹیں انکرپشن ٹیکنالوجی استعمال کرتی ہیں، جن میں گوگل، فیس بک اور یاہو وغیرہ شامل ہیں۔

این ایس اے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہر سال اس خفیہ پروگرام پر 25 کروڑ ڈالر خرچ کرتی ہے۔

برطانوی اخبار گارڈین نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے اشتراک سے بتایا ہے کہ اس پراجیکٹ کا نام ’بُل رن‘ ہے۔

برطانیہ میں اس پروگرام کا قائم مقام ’ایج ہل‘ نامی پروگرام ہے۔

اطلاعات کے مطابق امریکی اور برطانوی انٹیلی جنس ادارے 4جی سمارٹ فونز، ای میل، آن لائن شاپنگ، اور بزنس نیٹ ورکس میں کی جانے والی انکرپشن پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

افشا کی گئی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ این ایس اے نے اس ٹیکنالوجی کا توڑ کرنے کے لیے طاقتور سپر کمپیوٹر بنائے ہیں جو ذاتی معلومات کو انکرپٹ کرتی ہے۔

اس کے علاوہ این ایس اے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر ان کے سافٹ ویئر میں ’چور دروازے‘ نصب کرتی ہے تاکہ حکومت کو انٹرنیٹ پر جانے سے قبل ہی خفیہ معلومات تک رسائی حاصل ہو جائے۔

نیویارک ٹائمز نے کہا ہے کہ ’لوگوں کی مواصلات کو محفوظ رکھنے والی ٹیکنالوجی کو غیرموثر بنانے کے دوسرے طریقوں میں تکنیکی شعبدہ کاری، عدالتی احکامات، اور کمپنیوں پر دباؤ ڈالنا شامل ہیں۔‘

اطلاعات کے مطابق امریکہ نے اس پروگرام میں اس وقت اربوں ڈالر خرچ کیے جب 2000 میں اس کی تمام انکرپشن سافٹ ویئرز میں ’چور دروازہ‘ نصب کرنے کی کوششیں ناکام رہیں۔

تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے نام سے شروع کیے جانے والے اس پروگرام سے الٹا قومی سلامتی کو نقصان پہنچے گا کیوں کہ اس قسم کے چور دروازے کو سرکاری اداروں سے باہر موجود ہیکر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔