’بچے رحمِ مادر میں بھی روتے ہیں‘

برطانیہ کی ڈرہم اور لنکاسٹر یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق رحمِ مادر میں موجود بچے اپنے چہروں پر درد کے تاثرات لانے کی مشق کرتے ہیں۔
محقیقین کا خیال ہے کہ بچہ پیدائش کے بعد اپنی بات پہنچانے کے طریقے رحمِ مادر میں ہی رونے اور چہرے پر درد کے تاثرات کا اظہار کر کے سیکھتا ہے۔
الٹراساؤنڈ سکین کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ حمل کے دوران جنین مسکرانے ، بھنوؤں کو نیچے کرنے اور ناک چڑھانے جیسی حرکات کرتا ہے۔
اس تحقیق کے سربراہ اور درہم یونیورسٹی میں سینیئر لیکچرار ڈاکٹر ندجا رئیسلینڈ کا کہنا ہے کہ ’بچوں کے لیے پیدائش کے فوراً بعد اپنی تکلیف کے بارے میں بتانے کی صلاحیت بہت ہی ضروری ہے تاکہ کسی تکلیف یا مشکل کی صورت میں وہ اپنے رکھوالے کو یہ سمجھا سکے۔‘
ڈاکٹر ندجا رئیسلینڈ کا کہنا ہے کہ بچے کی ’نارمل نشونما‘ کو سمجھنے سے ڈاکٹروں کو کسی بھی طبی مسئلے کا پتہ چل جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمیں یہ معلوم نہیں کہ جنین کو درد محسوس ہوتا ہے یا ان کے چہرے کے تاثرات ان کے احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں۔‘
ڈاکٹر ندجا رئیسلینڈ نے بتایا کہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جنین کے چہرے کے تاثرات کا تعلق دماغ کی پختگی سے تھا نہ کہ ان کے حقیقی جذبات سے۔
اس تحقیق میں آٹھ مادہ اور سات نر جنین کے فور ڈی سکینز کی ویڈیو فوٹیج کا مطالعہ کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے کی گئی تحقیق یہ بات کہی گئی تھی کہ حمل کے دوران صحت مند جنین کے چہرے کے تاثرات مزید بڑھتے ہیں اور پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ .







