الزائمر کے علاج کے لیے دوا کا تجربہ ناکام

،تصویر کا ذریعہSPL
دوا بنانے والی دو امریکی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ الزائمر بیماری کے علاج کے لیے تیار کی گئی دوا کا تجربہ اس کے آخری مراحل میں ناکام رہا ہے اس لیے وہ اس پر مزید کام بند کر رہے ہیں۔
بیپنیوزمب نامی دوا فائزر اور جانسن اینڈ جانسن نے بنائی تھی جس کا مقصد دماغ میں میل یا جراثیم کے جمنے کو روکنا تھا۔
دونوں کمپنیوں نے تئیس جولائی کو اعلان کیا تھا کہ دوا کا تجربہ میں ناکام رہا ہے۔
اس تجربے میں ان مریضوں پر تجربہ کیا گيا تھا جن کو الزائمر کی بیماری ہونے کا جینیاتی طور پر زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔
لیکن دوسرے مرحلے میں ان مریضوں پر کیےگئے تجربات کا بھی تقریباً وہی نتیجہ نکلا جن میں جنیٹکلی الزائمر کا اتنا رسک نہیں تھا۔
دوسرے دور کے تجربہ کے خاتمے کا مطلب یہ ہوا کہ اب انٹرا وینیس کے تعلق سے اس دوا پر مزید تحقیق نہیں ہوگي۔
لیکن جانسن اینڈ جانسن کا کہنا ہے کہ جلد کے نیچے سے یا انجکشن کے ذریعے اس پر مزید ریسرچ جاری رہےگي۔

،تصویر کا ذریعہAP
جانسن اینڈ جانسن نے دو ہزار نو میں اس دوا پر ڈیڑھ ارب ڈالر خرچ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس ناکامی پر فائزر کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انہیں اس سے مایوسی ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بعض ماہرین نے پہلے ہی یہ پیشین گوئی کی تھی کہ انٹراوینیس کے ذریعے اس دوا کے تجربات ناکام رہیں گے کیونکہ جن مریضوں پر اسے آزمایا گیا ان کے ذہن پہلے ہی سے ناکارہ ہوچکے تھے۔
الزائمر ایسو سی ایشن کے سربراہ اس بیماری کے ماہر ولیم تھیز کا کہنا ہے کہ ’اس شعبہ میں ایک بہت اہم بات یہ ہے کہ آپ لوگوں کا علاج ان کی یاد داشت چلی جانے سے پہلے ہی کریں‘۔
لیکن ولیم تھیز کا کہنا ہے کہ ناکامی کے باوجود ان تجربات کا ڈیٹا بہت کار آمد ثابت ہو سکتا ہے۔’الزائمر جیسے مرض کے متعلق مزید معلومات کے لیے یہ تجربات بڑی اہمیت کے حامل ہیں‘۔
امریکہ میں الزائمر ذہنی بیماری یا حافظے کے مسائل کی ایک عام وجہ ہے اور اموات کے لیے الزائمر چھٹی بڑی وجہ ہے۔ایک تخمینے کے مطابق دنیا بھر میں تقریبا ساڑھے تین کروڑ افراد الزائمر سمیت دماغی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔







