خلائی روبوٹ ’کیوروسٹی‘مریخ کے قریب

یہ خلائی روبوٹک تجربہ گاہ پلوٹونیم بیٹری کی مدد سے دس سال تک کام کر سکتی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیہ خلائی روبوٹک تجربہ گاہ پلوٹونیم بیٹری کی مدد سے دس سال تک کام کر سکتی ہے

امریکی خلائی ایجنسی ناسا کی ’کیوروسٹی‘ نامی خلائی روبوٹ گاڑی پیر کو مریخ پر اترے گی۔

ابھی تک خلائی گاڑی اپنے مقررہ راستے پر منصوبے کے مطابق سفر کر رہی ہے جس کی وجہ سے سائنسدانوں نے اس کے راستے میں تبدیلی کے منصوبے کو منسوخ کر دیا ہے۔

سنیچر کو کیوروسٹی تیرہ ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مریخ کی جانب بڑھ رہی تھی اور جب یہ مریخ کی فضا میں داخل ہو گی تو اس کی رفتار بڑھ کر اکیس ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہو جائے گی اور اس کے ٹھیک سات منٹ کے بعد مریخ پر اتر جائے گی۔

گرینج کے معیاری وقت کے مطابق تقریباً ساڑھے پانچ بجے کیوروسٹی مریخ پر اتری گی۔ یہ سارا عمل ایک خودکار طریقے مکمل ہو گا اور مقصد کے لیے خصوصی طور پر ایک سافٹ وئیر تیار کیا گیا ہے۔

مریخ پر اس گاڑی کے اترنے کے لیے گیل کریٹر نامی مقام کا انتخاب کیا گیا ہے اور اسے مریخ کا سب سے گہرا مقام کہا جاتا ہے۔

مریخ پر اس گاڑی کے اترنے کے لیے گیل کریٹر نامی مقام کا انتخاب کیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمریخ پر اس گاڑی کے اترنے کے لیے گیل کریٹر نامی مقام کا انتخاب کیا گیا ہے

گزشتہ سال نومبر میں ناسا نے ایک کیپسول میں بند ایک ٹن وزنی یہ خلائی گاڑی اٹلس راکٹ فائیو کی مدد سے فلوریڈا میں واقع کیپ کینیورل سے روانہ کی تھی۔

خلائی گاڑی جسے مریخ پر سائنسی تجربہ گاہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مریخ پر زندگی کے شواہد جمع کرنے کے لیے اب تک بنایا جانے والا سب سے مہنگا اور جدید ترین روبوٹ گاڑی ہے اور ناسا کے اس مشن پر دو اعشارہ پانچ بلین ڈالر کی لاگت آئی ہے۔

ناسا کے مطابق کیوراسٹی میں موجود پلوٹونیم بیٹری کی مدد سے یہ دس سال تک کام کر سکتی ہے

کیوروسٹی مریخ کے سخت ترین موسمی حالات میں بھی کئی مہینوں تک مریخ کی پتھریلی اور نرم دونوں طرح کی سطح سے مٹی کے نمونے حاصل کر کے ان کا تفصیل سے تجزیہ کر سکے گی تاکہ یہ بات زیادہ وثوق سے معلوم کی جا سکے کہ آیا مریخ پر بھی کبھی زندگی کی نشوونما ہوئی تھی کہ نہیں۔