پی آئي پي امپلانٹ مضرِ صحت نہیں

،تصویر کا ذریعہAFP
بریسٹ امپلانٹ میں استعمال ہونے والے مادے سے متعلق حتمی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ مادہ انسانی صحت کے لیے طویل مدتی بنیاد پر نقصان دہ نہیں ہے۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بریسٹ امپلانٹ میں استعمال کیا جانے والا غیرقانونی سیلیکون مادہ نہ تو زہریلا ہے اور نہ ہی اس سے کینسر ہو نے کا خطرہ لاحق ہے۔
تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سربراہ اور برطانیہ کی نیشنل ہلتھ اسکیم یا این ایچ ایس کے ڈائرکٹر پروفیسر سر بروس کیوگ نے کہا ہے کہ بریسٹ امپلانٹ کے دوسرے طریقوں کے مقابلے اس میں پھٹنے کی رفتار دوگنی ہے۔
صرف برطانیہ میں سینتالیس ہزار خواتین نے اپنی چھاتی میں پی آئی پی سے امپلانٹ کروایا ہے۔
ان میں سے پچانوے فیصد نجی طور پر لگوائے گئے ہیں۔ این ایچ ایس اس کے لیے ایک چھوٹا سا آپریشن کرواتا ہے جو کہ عام طور پر کینسر سے متاثرہ چھاتیوں کے لیے کیا جاتا ہے۔
جنوری میں پروفیسر کیوگ نے کہا تھا کہ پی آئی پی مادے کو نکالنے کی سفارش کرنے کے لیے ناکافی شواہد ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ وہ اس کے متعلق لوگوں میں پائی جانے والی تشویش کا احترام کرتے ہیں۔
پروفیسر کیوگ نے کہا کہ خواتین کو ’انتہائی پریشان کن‘دور سے گزرنا پڑا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مختلف ممالک میں بار بار کی جانے والی جانچ میں پایا گیا ہے کہ یہ داخل شدہ مادہ زہریلا نہیں ہے لیکن اس میں پھٹنے کا عمل ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہم ان خواتین کو یہ صلاح دیں گے جنہیں ملائم پن، یا سوجن یا محسوس ہو وہ اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایستھیٹک پلاسٹک سرجنوں کی برطانوی انجمن کے صدر فضل فتح نے کہا کہ ’تحقیقات کے باوجود ان میں شامل کسی مادے کو انسانی صحت کے لیے کافی مدت تک نقصاندہ نہیں پایا گیا۔‘
بہر حال انھوں نے کہا کہ پی آئی پی کے دخول میں پھٹنے اور رسنے کے عمل سے کسی خاص فرد میں طبعی رد عمل ہو سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ تشویش اپنے آپ میں ایک بیماری ہے اور اگر کوئی خاتون اس کو نکالنا چاہتی ہیں تو وہ ان کو اس کا حق حاصل ہے خواہ وہ دخول پھٹا ہو یا نہیں۔
بہر حال اس کے متعلق مریضوں کے لیے دی گئی صلاح میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔







