چین کا خلائی مشن بھیجنے کا اعلان

یہ مشن چین کے ایک گردش کرنے والے خلائی مرکز کی تیاری کا حصہ ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنیہ مشن چین کے ایک گردش کرنے والے خلائی مرکز کی تیاری کا حصہ ہے

چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ جون کے وسط میں ایک ایسا خلائی جہاز روانہ کر رہا ہے جس پر تین خلاباز سوار ہوں گے۔

سرکاری خبر رساں ادارے زنہوا کے مطابق اس خلائی مشن کے لیے ایک شینزو 9 نامی خلائی جہاز لے جانے والے راکٹ کو ملک کے شمال مغرب میں واقع لانچ پیڈ پر پہنچا دیا گیا ہے۔

چینی حکام کا کہنا ہے کہ تیانگونگ خلائی سٹیشن کی جانب روانہ ہونے والے اس خلائی مشن میں حصہ لینے والے تین خلابازوں میں سے ایک ممکنہ طور پر خاتون ہو گی۔

یہ چین کی خلائی تاریخ میں چوتھی ایسی خلائی پرواز ہے جس پر انسان سوار ہوں گے اور سنہ دو ہزار آٹھ کے بعد یہ ایسا پہلا مشن ہے۔

روس اور امریکہ کے بعد چین دو ہزار تین میں خلاء میں بغیر کسی دیگر ملک کی مدد کے خلاء میں مشن بھیجنے والا تیسرا ملک بنا تھا۔

گزشتہ برس چینی خلائی سائنسدانوں نے خلاء میں ایک پیچیدہ عمل میں اس وقت کامیابی حاصل کی تھی جب ریموٹ کنٹرول کی مدد سے ایک خلائی جہاز کو چین کے تجرباتی تیانگونگ خلائی مرکز سے جوڑا گیا تھا۔

اس نئے مشن کے دوران بھی شینزو 9 خلائی جہاز پر سوار خلاباز اسے تیانگونگ 1 سے جوڑیں گے اور سائنسی تجربات سرانجام دیں گے۔

یہ مشن چین کے ایک گردش کرنے والے خلائی مرکز کی تیاری کا حصہ ہے۔ چین 2020 تک اس ساٹھ ٹن وزنی خلائی سٹیشن کو مکمل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

خیال رہے کہ چین کو ممکنہ طور پر امریکی اعتراضات کے بعد اس بین الاقوامی خلائی مرکز کے منصوبے کا حصہ نہیں بنایا گیا تھا جس میں سولہ عالمی ممالک شامل ہیں۔