چھوٹا سا جزیرہ، بیس لاکھ سانپ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
مغربی بحرالکاہل کا امریکی علاقہ گوام اگرچہ صرف پچاس کلومیٹر طویل اور دس کلومیٹر وسیع ہے لیکن یہاں بیس لاکھ کے لگ بھگ ’براؤن ٹری سنیک‘ یعنی بھورے درخت کے سانپ پائے جاتے ہیں۔
ان سانپوں کو گوام میں بسے ہوئے ساٹھ سال سے زیادہ نہیں ہوئے لیکن ان کی تعداد سے ایسا نہیں لگتا۔ جنگلی حياتيات کے ماہر جیمز سٹینفورڈ کا کہنا ہے ’ہمارے مطابق یہ سانپ دوسری جنگِ عظیم کے اختتام پر یہاں آئے۔‘
انہوں نے بتایا ’ہم نے ان کی جینیات کا مطالعہ کیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ یہ تمام سانپ ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور پاپوا نیو گنی کے جزیرے مینس سے یہاں آئے ہیں۔‘
جیمز سٹینفورڈ کا کہنا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران امریکہ کی جانب سے پاپوا نیو گنی میں استعمال کیے جانے والا سامان گوام واپس بھیجا جاتا تھا اور ہو سکتا ہے کہ اسی دوران ایک سانپ کسی بحری یا فضائی جہاز میں اِدھر آ گیا ہو۔
انہوں نے کہا ’شاید ان ہی چند سانپوں یا ایک حاملہ مادہ سے ہمارے سامنے اب ان سانپوں کی ایک ایسی آبادی ہے جو تعداد میں ناقابلِ یقین ہے۔‘
لیکن ان سانپوں کی وجہ سے اب مقامیوں کو بہت سی پریشانیوں کا سامنا ہے۔ یہ کم زہریلے سانپ اب ہر جگہ سے نکل رہے ہیں۔ یہاں تک کہ مقامی لوگوں کو نیند سے جاگتے ہی اپنے بستروں میں ان سانپوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس مسئلے کے علاوہ ان سانپوں کی وجہ سے دیگر مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں جیسےسانپوں کا بجلی کی تاروں پر رینگنے سے بجلی کا متاثر ہونا۔ لیکن ان مسئلوں میں سب سے بڑا مسئلہ جنگلی حیات کا متاثر ہونا ہے۔
یہاں کے جنگلات میں ایک عجب خاموشی چھائی ہوئی ہے اور گوام کے کوکو جیسے مقامی پرندے اب صرف پنجروں میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ان سانپوں نے صرف پرندوں پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کے بعد زمین پر رینگنے والے دیگر کیڑوں، چھکلیوں وغیرہ کو بھی ایسے نشانہ بنایا ہے کہ ہر طرف سناٹا چھا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان سانپوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے یہاں کے مقامی اب عجیب و غریب قسم کے ہتھیار اپنا رہے ہیں۔ ان تراکیب میں سے ایک ترکیب فضائی جہاز سے زہر میں لتھڑے ہوئے چوہوں کو ان جنگلات میں پھینکنا ہے۔
اس جزیرے پر ان سانپوں کی تعداد اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ان کا خاتمہ ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے اور ظاہر ہے کہ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔







