بھارت میں پشمینا بکری کا کلون تیار

بھارت میں پہلی بار اون کی عمدہ قسم کے لئے مشہور پشمينا بکری کا كلون تیار کیا گیا ہے۔
اسے جموں کے شیرِ کشمیر زراعت سائنس اور ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے بنایا ہے۔ انہوں نے اسے ’نوری‘ نام دیا ہے۔
سینٹر فار اینيمل بائيوٹیكنالوجي کے اسسٹنٹ پروفیسر ریاض احمد شاہ اور ان کی ٹیم نے اس كلون کو تیار کیا۔
انہوں نے بی بی سی کو بتایا ، ’آپ اسے اس طرح سمجھیئے کہ ہم نے پشمينا کے خلیوں کو اس کے انڈوں سے ملایا اور لیبارٹری میں اسے جنین کی شکل میں تیار کر کے ایک دوسری بکری کے پیٹ میں ڈالا۔ اس کے پانچ ماہ بعد یہ كلون تیار ہوا۔‘
ریاض احمد شاہ نے بتایا کہ کلوننگ کا کام آسان نہیں ہوتا اور لیبارٹری میں اچھے معیار کا جنین تیار کرنے میں دو سال کا وقت لگ گیا۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا پشمينا کا یہ دنیا کا واقعی پہلا كلون ہے، انہوں نے کہا، ’جس ٹیکنالوجی سے یہ كلون بنایا گیا ہے، اس طرح یہ پہلا كلون ہے۔ ڈلي بھیڑ بنانے میں جس تکنیک کا استعمال کیا گیا تھا، اس سے الگ تکنیک ہم نے اختیار کی۔ بھارت میں دو ہی كلون بنے ہیں، پہلا بھینس کا اور دوسرا بکری کا۔‘
ریاض احمد شاہ کا کہنا ہے کہ پشمينا دراصل ایک بکری ہے جو لداخ کے پہاڑی علاقے میں رہتی ہے۔
اس کلون کے فائدے کے بارے میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آگے چل کر اون کی پیداوار بہت بڑھ سکتا ہے۔ ہم انہیں بکریوں کا كلون تیار کریں گے جن سے مزید اون مل سکتی ہے۔ ‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پشمينا بکری کو سرحدی لداخ علاقے میں رہنے والے لوگوں کی روزی روٹی کا اہم ذریعہ خیال کیا جاتا ہے۔
جنین کے خلیوں کی مدد سے دنیا کا پہلا کامیاب كلون جس جانور کا بنایا گیا تھا وہ ایک بھیڑ تھی۔ اسے ڈلي نام دیا گیا تھا جو سال 1996 میں اسکاٹ لینڈ کے محققین کی محنت سے وجود میں آئی تھی۔
لیکن اس کے بعد کلوننگ کے غلط استعمال کا خدشہ پر دنیا بھر میں بحث چھڑ گئی۔ حالانکہ سال 2003 میں ڈلي کی موت ہو گئی تھی۔







