’ویٹیکن بالغ سٹم سیل تحقیق کا حامی‘

یہ اجلاس اس عام خیال کو رد کرتا ہے کہ رومن کیتھولک کلیسا سائنس کا مخالف ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنیہ اجلاس اس عام خیال کو رد کرتا ہے کہ رومن کیتھولک کلیسا سائنس کا مخالف ہے

رومن کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ پینیڈکٹ سنیچر کو ایک ایسی امریکی بایو ٹیک کمپنی کے نمائندوں سے ملاقات کر رہے ہیں جو کہ بالغ ’سٹم سیلز‘ پر تحقیق میں مصروف ہے۔

کیتھولک کلیسا کے لیے ایمریونک سٹم سیلز کے مقابلے میں بالغ ’سٹم سیلز‘ سے بیماریوں کا علاج ایک قابلِ قبول طریقہ ہے۔

کلیسا کا کہنا ہے کہ ایمبریونک سٹم سیلز سے علاج کرنا اخلاقی طور پر صحیح نہیں کیوکہ اس عمل کے دوران انسانی ایمبریوز کو تباہ کیا جاتا ہے جو کہ ایک لحاظ سے انسانی جان کی ہلاکت جیسا ہے۔

ویٹیکن نے مئی دو ہزار دس میں ’نیو سٹم‘ نامی کمپنی کے ساتھ بالغ سٹم خلیوں پر تحقیق کے ایک پانچ سالہ مشترکہ منصوبے میں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا تھا اور اب تک اس مقصد کے لیے ویٹیکن دس لاکھ ڈالر کی رقم فراہم کر چکا ہے۔

نیو سٹم کمپنی کے سربراہ رابن سمتھ کا کہنا ہے کہ ’ہمیں یقین ہے کہ ویٹیکن کی نیو سٹم کے ساتھ شراکت سے سٹم سیلز کی بنیاد پر بنائی جانے والی ادویات کی تیاری کا عمل تیز ہوجائےگا‘۔

رواں ہفتے کے آغاز میں ویٹیکن میں بالغ سٹم سیلز کے موضوع پر ایک تین روزہ کانفرنس بھی منعقد ہوئی ہے جس میں دنیا بھر سے ساڑھے تین سو ماہرین شریک ہوئے۔

پوپ کی اکیڈمی آف لائف کے سربراہ اگناکیو ڈی پاؤلا کا کہنا ہے کہ بالغ سٹم خلیوں کے موضوع پر یہ اجلاس اس عام خیال کو رد کرتا ہے کہ رومن کیتھولک کلیسا سائنس کا مخالف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ویٹیکن جانتا ہے کہ طبی تحقیق کے شعبے میں انسانوں پر تجربات کا کوئی متبادل نہیں لیکن اہم یہ ہے کہ انسان ایسے تجربات میں فاعل ہو نہ کہ مفعول۔