’ضدِ مادہ پندرہ منٹ تک قابو میں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

سائنسدان اینٹی ہائیڈروجن ایٹم کو پندرہ منٹ سے زیادہ قابو رکھنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

بلاشبہ یہ اِن کاوشوں کی جانب ایک بہت بڑی کامیابی ہے کیونکہ گذشتہ سال سائنسدان اِسے بمشکل ایک سیکنڈ کے چھٹے حصے تک قابو رکھنے میں کامیاب ہوسکے تھے۔

تحقیق کاروں نے نیچر فزکس جرنل کو بتایا کہ اب ان کے پاس یہ صلاحیت آگئی ہے کہ وہ ’اینٹی میٹر‘ یا ضدِ مادہ ایٹم کی خصوصیات کا تفصیلی معائنہ کرسکیں۔

اس معائنے سے انہیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کائنات کو ضدِ مادہ کے بجائے معمول کے مادے سے کیوں بنایا گیا ہے۔

جبکہ طبیعات کے قوانین اِن دونوں میں تمیز نہیں کرتے اور ان کے مطابق کائنات کی تخلیق کے دوران دونوں ایٹموں کے بننے میں یکساں طاقت صرف ہوئی ہو گی۔

سوئٹزرلینڈ میں طبیعات کی لیباریٹری کے رکن پروفیسر جیفری ہینگسٹ کا کہنا ہے ’ہم نے گذشتہ نومبر میں جو شائع کیا تھا اس کے مقابلے میں ہمیں قابو رکھنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہوگا۔ ہم نے گذشتہ سال اڑتیس ایٹموں کو قابو کیا تھا اور اب ہم نے تین سو پر تحقیق کی ہے‘۔

ان کے بقول ’اگر آپ ایک ایٹم کے بارے میں سوچیں کہ اس میں انتہائی چھوٹا سیارچی نظام ہوتا ہے جیسا کہ اس کے الیکٹران جو اس کے مرکز کے گرد گردش کرتے ہیں یا پھر ہمارے کیس میں ایک پوزِٹرون جو ضدِ پروٹون کے گرد گردش کرتے ہیں، ایسے میں زمینی حالت وہ ہوتی ہے جہاں الیکٹرون یا پوزِٹرون مرکز کے قریب تر ہوتا ہے۔‘

انہوں نے کہا ’اگر آپ اس کو ایک ہزار سیکنڈ تک قابو رکھ سکیں تو آپ کو یقین ہونا چاہیے کہ اب وہ اس مقام پر ہیں جہاں آپ ان پر تحقیق کرسکتے ہیں اور یہ پہلی بار ہے کہ کوئی بھی یہ دعوٰی کرسکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

پروفیسر ہینگسٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’کیا مادہ اور ضدِ مادہ طبیعات کے ایک ہی قانون کے ماتحت ہیں؟ یہ سوال انتہائی سادہ ہے لیکن بہت پیچیدہ بھی‘۔

ایک کام جو کرنا ہے وہ یہ کہ قابو میں رکھنے کے دوران ضد مادہ کے ایٹموں کی تعداد کو بڑھانا ہے۔ تاہم تحقیقی ٹیم کے ایک رکن ڈاکٹر ماکوٹو فُجیوارہ کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی ہوسکتی ہے۔

ان کے بقول ’لیکن ہماری مشینیں لمبے عرصے کے لیے سچی بات ہے کہ یہ سب کچھ نہیں کرسکتیں۔ ہاں مستقبل میں ہم ان کو اس قابل بنا سکتے ہیں اور پھر چند کیسوں میں ہم ضد مادہ کو لمبے عرصے تک قابو میں رکھ سکتے ہیں‘۔