انسانی سٹیم سیلز سے متعلقہ حقائق

انسانی ایمبریونک سٹیم سیلز سے متعلقہ حقائق

٭اکتوبر سنہ 2010 میں انسانی سٹیم سیلز کا پہلا تجربہ شروع ہوا۔ اس تجربے میں ایسے مریضوں پر کام کیا جا رہا ہے جنہیں حال ہی میں ریڑھ کی ہڈی پر چوٹ لگی ہے۔

٭سٹیم سیل انسانی جسم کے بنیادی خلیے ہیں جو کہ دماغ، خون، دل، ہڈیوں اور پٹھوں سمیت تمام خلیوں اور ٹشوز یعنی بافتوں کا منبع ہیں۔

٭ایمبریونک سٹیم سیل ایسے ایمبریوز سے حاصل کیے جاتے ہیں جن کی عمر چند دن ہوتی ہے اور ان سے جسم کا کوئی بھی خلیہ بنایا جا سکتا ہے۔

٭سائنسدان عموماً ایمبریونک سٹیم سیل ان ایمبریوز سے حاصل کرتے ہیں جو مصنوعی طریقے سے حاملہ ہونے کے طریقے آئی وی ایف کے دوران بچ جاتے ہیں۔ یہ خلیے کلوننگ ٹیکنالوجی کی مدد سے بھی تیار کیے جا سکتے ہیں۔

٭ایڈوانس سیل ٹیکنالوجی کے خلیے ایمبریو سے حاصل کیے جانے والے ایک ہی خلیے سے حاصل کیے جاتے ہیں اور اس ایمبریو سے خلیہ نکالے جانے کے باوجود اسے دوبارہ انسانی جسم میں داخل کر کے بارآور کیا جا سکتا ہے۔

٭سائنسدان بنیادی خلیوں کی بدلاؤ کی خصوصیات پر قابو پا کر انہیں کینسر اور ذیابیطس سمیت متعدد بیماریوں کے علاج میں استعمال کرنے کی امید رکھتے ہیں۔

٭امریکی قانون جسے ڈکی وکر ترمیم کا نام دیا گیا ہے تحقیق کے لیے انسانی ایمبریو کی تخلیق یا تباہی کے لیے وفاقی فنڈز کے استعمال پر پابندی عائد کرتا ہے۔ تاہم موجودہ امریکی صدر براک اوباما نے سنہ 2009 میں یہ پابندی اٹھا لی تھی۔ اس سے قبل سابق امریکی صدر جارج بش نے سنہ 2001 میں پہلے سے موجود انسانی ایمبریونک خلیوں پر تحقیق کے لیے وفاقی فنڈز استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔

٭کیلیفورنیا، نیویاک، کنکٹیکٹ، میری لینڈ، الینوائے، میساچوسٹس اور نیوجرسی جیسی امریکی ریاستوں نے بش دور میں بنیادی خلیوں پر تحقیق کے لیے ریاستی وسائل استعمال کیے تھے جبکہ ہارورڈ سمیت کئی تعلیمی اداروں نے بھی اس تحقیق کے لیے نجی فنڈنگ استعمال کی۔

٭ ایڈوانس سیل ٹیکنالوجی اور گیرون وہ دو امریکی کمپنیاں ہیں جو انسانی ایمبریونک خلیوں پر تجربات کر رہی ہیں جبکہ کئی اور کمپنیاں سٹیم سیل کے دیگر معاملات پر کام کر رہی ہیں۔

٭محققین یہ جان چکے ہیں کہ عام بنیادی خلیوں سے ایمبریونک خلیوں سے مماثلت رکھنے والے خلیے کیسے بنائیں جائیں۔ ان خلیوں کو ’انڈیوسڈ پلوری پوٹنٹ سٹیم سیل‘ کہا جاتا ہے۔ محققین اب ایک خلیے کی قسم کو دوسری قسم میں تبدیل کرنے پر بھی قادر ہیں۔